بین ریاستی خبریں

جامشورو: موٹروے پر مسافر کوچ میں آتش زدگی، 18 افراد جاں بحق

کراچی؍اسلا م آباد، 13اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صوبہ سندھ کے شہر جامشورو کے قریب ایم نائن موٹروے پر کراچی سے واپس گھروں کو جانے والے سیلاب متاثرین کی کوچ میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں اب تک 18 مسافروں کے جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق کراچی سے خیرپور ناتھن شاہ جانے والی سیلاب متاثرین کی مسافر کوچ کے پچھلے حصے میں کوٹری کے قریب ہائی وے پر اچانک آگ بھڑکی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں گاڑی پچاس فیصد سے زائد جل کر راکھ ہوگئی۔آگ کو دیکھتے ہی مسافر کوچ میں بھگدڑ مچ گئی، اور مسافروں نے چلتی کوچ کا دروازہ کھول کو چھلانگیں لگا دیں۔مسافر کوچ میں خواتین اور بچوں سمیت 55 مسافر سوار تھے۔ پولیس حکام کے مطابق آگ کی وجہ سے لاشیں شناخت کے قابل نہیں اور ورثاء ڈی این اے کروا نہیں رہے۔ لاشوں کو کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن، تین صوبوں میں بجلی سپلائی متاثر

اسلام آباد، 13اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا ہے جس کے بعد سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔وزارتِ توانائی نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنوبی ٹرانسمیشن سسٹم میں حادثاتی خرابی کے باعث متعدد پاور پلانٹس مرحلہ وار ٹرپ ہو رہے ہیں جس سے ملک کے جنوبی حصوں میں بجلی کی ترسیل میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ادھر نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کا 500 کے وی کا نظام بیٹھ گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گڈو تھرمل پاور کے تمام یونٹ ٹرپ ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

جن شہروں اور علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی ان میں کراچی، جیکب آباد، شکار پور، دادو، سبی، رحیم یار خان، گھوٹکی، رحیم یار خان و دیگر علاقے شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق بجلی کے نظام میں خرابی کی وجوہات کا پتا لگایا جا رہا ہے۔ادھر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے واحد ادارے ’کے الیکٹرک‘نے کہا ہے کہ شہر کے مختلف حصوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن ہوچکے ہیں۔ ملک میں ہونے والے دو بڑے بریک ڈاؤن پر این ٹی ڈی سی پر جرمانہ بھی عائد کیا جا چکا ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے رواں سال 31 مئی کو بجلی کی فراہمی میں ناکامی اور جزوی بریک ڈاؤن پر ایک کروڑ روپے جب کہ یکم ستمبر 2021 کو جامشورو گرڈ کی ٹرپنگ کے بعد جزوی بریک ڈاؤن پر ایک کروڑ روپے کے الگ الگ جرمانے عائد کیے تھے۔

پاکستان میں سزائے موت پر بحث، کسی کی جان لینا ریاست کا کام نہیں ہے

اسلام آباد، 13اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، دانش وروں اور بعض نام نہاد ماہرین تعلیم نے سزائے موت کے قانون پر قومی بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان میں کئی برسوں سے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح سزائے موت ختم کرنے کے حق میں آوازیں بلند کی جا رہیں، تاہم اتفاقِ رائے نہ ہونے پر تاحال اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

سزائے موت کے قانون کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) کے زیرِ اہتمام 10 اکتوبر کو سزائے موت کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے اسلام آباد میں ہونے والے سیمینار میں کیا گیا۔ایچ آر سی پی نے سزائے موت کے خلاف اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے اکثر ممالک میں سزائے موت کو ختم کیا جارہا ہے، پاکستان میں اس سزا پر عمل درآمد میں اضافہ ہورہا ہے۔ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ سزائے موت پانے والے شخص کو گرفتاری سے تختہ دار تک ایک انتہائی مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حراست کے دوران مبینہ تشدد،سزائے موت کی کال کوٹھری میں بدترین حالات اور پھر پھانسی کے ذریعے سزائے موت کے اطلاق تک نہ صرف ملزم بلکہ اس کے اہلِ خانہ کو بھی درناک صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاکستان میں اس طرح کے کمزورفوج داری انصاف کے نظام میں کسی بے گناہ کو ناقابل واپسی سزا دینے کا بڑا اور حقیقی خطرہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ سزائے موت پر آٹھ سال گزارنے والے دو بھائیوں کو بالآخر سپریم کورٹ نے اکتوبر 2016 میں صرف یہ جاننے کے بعد بری کر دیا کہ انہیں ایک سال پہلے ہی پھانسی دی جا چکی ہے، اس صورتِ حال سے ملک کے فوج داری نظام انصاف میں سنگین خامیوں کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔

اجلاس میں سزائے موت کے مقدمات میں بنیادی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا جس میں مناسب دفاع کا حق، تشدد سے تحفظ، نابالغوں اور ذہنی طور پر معذور افراد کو پھانسی سے بچانا، سزائے موت پانے والے تارکین وطن پاکستانی کارکنوں کو قانونی خدمات فراہم کرنا اور رحم کی درخواستوں کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانا شامل ہے۔اجلاس میں موجود شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تشدد کے خلاف عالمی کنونشن پر دستخط اور توثیق کر دی ہے، لیکن اس کے باوجود انسدادِ تشدد قانون نہیں بنایا گیا۔بعض مبصرین کا کہنا تھا کہ اگر سزائے موت کی سزا کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا تو ایسے جرائم کی تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے جن میں فی الحال موت کی سزا دی جا رہی ہے۔

سینئر قانون دان اسلم خاکی ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ موت کی سزا ریاست کے قانون کے مطابق دی جارہی ہے۔اس پر بالکل بحث کی جاسکتی ہے کہ یہ سزا دی جائے یا نہیں۔اسلام میں اس پر بات کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ماضی میں بااثر افراد کی طرف سے قصاص اور دیت کے قانون کے مبینہ غلط استعمال پر اعتراض کیا جاتا تھا، اس وجہ سے بعض بااثر ملزمان سزا سے بچ جاتے تھے۔ لیکن حال ہی میں نور مقدم کیس کے علاوہ دیگر ہائی پروفائل کیسز میں ملزمان کو سزائیں دی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button