بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

جموی :دسویں جماعت کی طالبہ کو نوجوانوں نے ہراساں کیا، ویڈیو وائرل

کوچنگ سے واپسی پر طالبہ اور اس کے ساتھی کو روکا گیا، لڑکی کو اٹھانے کی کوشش اور دونوں کا تعاقب

جموی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بہار کے جموی شہر میں دسویں جماعت کے دو نابالغ طالب علموں کو ایک گروپ نے مبینہ طور پر روک کر ہراساں کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ تین ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

یہ واقعہ 19 ستمبر کی شام پیش آیا۔ پولیس کے مطابق دسویں جماعت کا لڑکا اور لڑکی کوچنگ کلاس کے بعد مدوا پہاڑ گئے تھے۔ واپسی کے دوران دونوں اسکوٹر پر سوار تھے کہ ایک گروپ نے انہیں مبینہ طور پر راستے میں روک لیا۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گروپ کے افراد دونوں طلبہ کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ایک شخص لڑکے کا کالر پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتا ہے، جبکہ دونوں طلبہ خود کو اس صورت حال سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لڑکا اور لڑکی وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن گروپ کے بعض افراد ان کا تعاقب شروع کردیتے ہیں۔

ویڈیو کے ایک حصے میں ایک شخص لڑکی کو پکڑ کر زمین سے اٹھاتا دکھائی دیتا ہے۔ لڑکی مزاحمت کرتی ہے جبکہ لڑکا فوری طور پر اس کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے اور اسے چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ واقعے کے دوران لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا جسمانی بدسلوکی بھی کی گئی۔

دونوں طلبہ جب دوبارہ اپنے اسکوٹر تک پہنچ کر وہاں سے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک شخص لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس دوران گروپ کا ایک اور فرد موبائل فون سے پورا واقعہ ریکارڈ کرتا رہا۔ بعد میں یہی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی اور بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔

ویڈیو میں دونوں نابالغ افراد کو گروپ کے سامنے معافی مانگتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے۔ لڑکی افراد سے انہیں جانے دینے کی درخواست کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ دوبارہ وہاں نہیں آئیں گے۔ کچھ دیر بعد دونوں کو وہاں سے جانے دیا گیا۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد جموی پولیس نے معاملے کا نوٹس لیا اور متاثرہ طلبہ تک پہنچ کر ان کے بیانات ریکارڈ کیے۔ پولیس نے ویڈیو اور دیگر دستیاب شواہد کی مدد سے واقعے میں ملوث افراد کی شناخت شروع کی۔

جموی پولیس کے مطابق اس معاملے میں سات افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تین ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس کی جانب سے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔ حکام واقعے میں موجود ہر شخص کے کردار کا الگ الگ تعین کررہے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ وائرل ویڈیو اور متاثرہ طلبہ کے بیانات کو تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔ حکام ویڈیو کی تفصیلات اور واقعے کے مقام سمیت دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ تمام ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔

واقعے کے بعد نابالغ طلبہ کی شناخت اور ان کی رازداری برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کی تفتیش کے ساتھ ساتھ واقعے کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر مزید پھیلائے جانے کے معاملے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button