جاپانی مرد ہمیشہ جوان رہنے کیلئے کیا کرتے ہیں؟
بڑھتی عمر، مگر جوان نظر آنے کی خواہش
ٹوکیو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جاپان میں مردوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد ایسی طرزِ زندگی اپنا رہی ہے جس کا مقصد عمر بڑھنے کے باوجود جوان اور پرکشش دکھائی دینا ہے۔ ان مردوں کا ماننا ہے کہ ظاہری شخصیت میں نکھار نہ صرف ملازمت کے مواقع کو بہتر بناتا ہے بلکہ سماجی طور پر بھی زیادہ احترام اور اعتماد کا باعث بنتا ہے۔ ایسے ہی ایک جاپانی نوجوان اکی کی مثال لیجیے، جو 33 سال کا ہے اور گزشتہ ایک دہائی سے جوانی برقرار رکھنے کے لیے سخت معمولات پر عمل پیرا ہے۔ اکی کا یہ سفر اس وقت شروع ہوا جب اس کے دفتر کے باس نے اس کے گرتے ہوئے بالوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بوڑھا لگنے لگا ہے۔ اس تبصرے نے اکی کو اپنی ظاہری حالت پر توجہ دینے پر مجبور کر دیا۔
اکی نے اپنی زندگی میں کئی مثبت تبدیلیاں کیں جن میں روزانہ سن اسکرین کا استعمال، چاہے بارش ہی کیوں نہ ہو رہی ہو، تمباکو نوشی ترک کرنا، دیر تک جاگنے کی عادت ختم کرنا، باقاعدہ ورزش، اور بیوٹی سیلون میں جِلدی نگہداشت شامل ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ایک دہائی بعد بھی اس کی جِلد ویسی ہی جوان دکھائی دیتی ہے جیسی پہلے تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے بعد نہ صرف لوگوں کا رویہ اس کے ساتھ بہتر ہوا بلکہ اسے اپنی زندگی پر کنٹرول کا احساس بھی ہوا۔
اسی طرح ایک اور جاپانی شخص، انون، بھی جوان رہنے کے لیے غیر معمولی معمولات پر عمل کر رہا ہے۔ انون دن میں صرف ایک مرتبہ کھاتا ہے، اور اس کا کھانا منجمد سبزیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ گزشتہ پانچ سال سے یہی طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ کسی شخص کی شخصیت کا تاثر براہِ راست اس کی سماجی حیثیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انون اپنی فٹنس اور خوبصورتی پر اب تک 2 کروڑ جاپانی ین سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ اس میں بیوٹی ٹریٹمنٹس، سپلیمنٹس، جِلدی نگہداشت، بالوں کے گرنے سے بچاؤ کی دوائیں، اور پرسنل فٹنس کوچ کی خدمات شامل ہیں۔
یہ طرزِ زندگی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جاپانی مرد صرف ظاہری جوانی کو نہیں بلکہ اندرونی اعتماد اور سماجی حیثیت کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہمیشہ جوان رہنے کا مطلب ہے اپنی زندگی پر مکمل اختیار اور نظم و ضبط کا قائم رکھنا۔



