جاپانی وزیر اعظم نے نامناسب ’رویے‘ پر بیٹے کو برطرف کر دیا
جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے سرکاری رہائش گاہ پر نامناسب حرکت کی وجہ سے اپنے ہی بیٹے کو اپنے سیاسی سیکرٹری کے اہم عہدے سے برطرف کر دیا
ٹوکیو ،30مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے سرکاری رہائش گاہ پر نامناسب حرکت کی وجہ سے اپنے ہی بیٹے کو اپنے سیاسی سیکرٹری کے اہم عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ شوتارو کیشیدا نے سرکاری رہائش گاہ پر ایک نجی پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔شوتارو کیشیدا کے اس اقدام کے انکشاف کے بعد جاپان میں عوامی ناراضی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس پس منظر میں ان کے والد اور ملکی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے اب اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے شوتارو کیشیدا کے سرکاری رہائش گاہ پر نامناسب رویے کی وجہ سے انہیں سیاسی امور کے ایگزیکٹیو سیکرٹری کے عہدے سے برطرف کر رہے ہیں۔فومیو کیشیدا نے یہ فیصلہ پیر کے روز کیا۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے ہی ایک رسالے میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ شوتارو کیشیدا نے وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر گزشتہ برس دسمبر میں ایک ایسی نجی تقریب منعقد کی تھی جس میں ان کے رشتہ داروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس جریدے نے اس تقریب کی چند تصاویر بھی شائع کی تھیں۔ہفت روزہ میگزین شُوکان بُن شُون نے وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر 30 دسمبر کے روز فومیو کیشیدا کے بیٹے اور ان کے رشتہ داروں کی اختتام سال کے موقع پر ایک پارٹی میں شرکت کرتے ہوئے تصاویر شائع کی تھیں۔
ان تصاویر میں مہمانوں کو سرخ قالین والی سیڑھیوں پر پوز بناتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ان تصاویر کے مرکز میں شوتارو کیشیدا تھے اور یہ نئی کابینہ کی گروپ فوٹو کے مماثل تھی، جب کہ ایسا کرنا صرف وزیر اعظم کے لیے ہی مخصوص ہے۔ان تصاویر سے یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا تھا کہ جیسے جونیئر کیشیدا کوئی پریس کانفرنس کر رہے ہوں۔وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ایک سیاسی سیکرٹری کے طور پر عوامی جگہ پر ان کا یہ رویہ نامناسب تھا اور میں نے انہیں برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔



