بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

شادی کے دباؤ پر خاتون کو سات ٹکڑوں میں کاٹ کر کنویں اور دریا میں پھینکا گیا

پردھان کی محبت بنی موت: جھانسی میں خاتون کا گلا دبا کر قتل، کلہاڑی سے سات ٹکڑے

جھانسی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے جھانسی ضلع کے ٹوڈی فتح پور کے کشور پورہ گاؤں میں ایک لرزہ خیز قتل کا انکشاف ہوا ہے۔ شادی کے دباؤ پر ایک خاتون کو قتل کر کے اس کی نعش کے سات ٹکڑے کر دیے گئے۔ نعش کے کچھ حصے بوریوں میں بھر کر کنویں میں اور باقی اعضاء لکیری ندی میں پھینک دیے گئے۔

پولیس کے مطابق مہیبا (ٹوڈی فتح پور) کے سابق گاؤں پردھان سنجے پٹیل نے اپنی گرل فرینڈ رچنا یادو کو 9 اگست کی رات کار میں گلا دبا کر قتل کیا۔ سنجے کے ساتھ اس کا بھتیجا سندیپ پٹیل اور دوست پردیپ عرف دیپک اہیروار بھی شامل تھے۔ نعش کو چھپانے کے لیے ملزمان نے اسے سات ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔

نعش کے تین ٹکڑے بوریوں میں بھر کر کشور پورہ کے ایک کنویں میں پھینکے گئے جبکہ سر، ٹانگیں اور دیگر اعضاء ندی میں پھینک دیے گئے۔ بوریوں میں پتھر اور اینٹیں ڈال کر نعش کو ڈبونے کی کوشش کی گئی لیکن مسلسل بارش کے باعث پانی اوپر آنے سے بوری تیر گئی اور راز کھل گیا۔

13 اگست کو ونود پٹیل کے کھیت میں کنویں سے بوریوں میں بند ایک خاتون کی سر کے بغیر نعش برآمد ہوئی۔ پولیس نے موقع پر شواہد جمع کیے لیکن شناخت نہ ہونے سے معاملہ پیچیدہ ہو گیا۔ تفتیش کے لیے 10 ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

نعش کی شناخت مدھیہ پردیش کے ٹیکم گڑھ کی رہائشی رچنا یادو کے طور پر ہوئی، جسے اس کے بھائی دیپک نے پہچانا۔ دیپک نے پولیس کو بتایا کہ سنجے نے فون پر کہا تھا: “میں نے تمہاری بہن کو قتل کر دیا ہے۔”

پولیس نے چھاپہ مار کارروائی میں سنجے اور سندیپ کو گرفتار کر لیا جبکہ پردیپ فرار ہے۔ تفتیش میں سنجے نے اعتراف کیا کہ رچنا شادی پر اصرار کر رہی تھی اور وہ تیار نہیں تھا۔ اسی دباؤ کے تحت اس نے قتل کی سازش رچی۔

ملزمان نے قتل کے بعد دو دن تک شراب نوشی کی اور نعش چھپانے کا منصوبہ بنایا۔ قتل میں استعمال ہونے والی کلہاڑی پردیپ لایا تھا، جسے پولیس نے برآمد کر لیا۔سنجے اور سندیپ کے خلاف پہلے بھی کئی مقدمات درج ہیں، جن میں خواتین کے قتل کے معاملات بھی شامل ہیں۔اس بہیمانہ واردات نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور گاؤں والے شدید خوف و سراسیمگی میں مبتلا ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button