جھارکھنڈ میں انسانیت کی موت: ایمبولینس نہ ملی، مجبور باپ 4 سالہ بچے کی نعش تھیلے میں لے کر گاؤں روانہ
اسپتال گیا تھا علاج کے لیے، واپس آیا بیٹے کی نعش کے ساتھ-نعش کے لیے ایمبولینس بھی میسر نہ آ سکی
جھارکھنڈ/چائباسا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ریاست جھارکھنڈ میں صحت کے نظام کی بدحالی نے ایک بار پھر انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ مغربی سنگھ بھوم ضلع میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے سرکاری دعوؤں اور زمینی حقیقت کے درمیان خلیج کو بے نقاب کر دیا، جہاں ایک غریب قبائلی باپ کو اپنے چار سالہ بیٹے کی نعش تھیلے میں ڈال کر گاؤں لے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔
یہ افسوسناک واقعہ چائباسا صدر اسپتال کا ہے، جہاں نومونڈی بلاک کے بلجوڈی گاؤں کے رہنے والے ڈمبا چٹومبا اپنے شدید بیمار چار سالہ بیٹے کو بہتر علاج کی امید میں داخل کرانے آئے تھے۔ دو دن تک اسپتال میں علاج جاری رہا، لیکن جمعہ کے روز معصوم بچہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
بچے کی موت کے بعد سب سے بڑا مسئلہ اس کی نعش کو گاؤں پہنچانے کا تھا۔ ڈمبا چٹومبا نے اسپتال انتظامیہ سے بار بار ایمبولینس فراہم کرنے کی درخواست کی، مگر گھنٹوں انتظار کے باوجود کوئی مدد نہیں ملی۔ نہ تو کوئی متبادل انتظام کیا گیا اور نہ ہی کسی ذمہ دار افسر نے اس سنگین معاملے میں سنجیدگی دکھائی۔
انتہائی غریب اور لاچار باپ کے پاس نہ پرائیویٹ گاڑی کرایہ پر لینے کے پیسے تھے اور نہ کسی بااثر شخص کی سفارش۔ آخرکار اس نے دل پر پتھر رکھ کر اپنے چار سالہ بیٹے کی نعش ایک تھیلے میں رکھی اور بس کے ذریعے بلجوڈی گاؤں کی جانب روانہ ہو گیا۔ راستے میں یہ منظر جس نے بھی دیکھا، اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
واقعے کے منظر عام پر آتے ہی مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سرکاری ایمبولینس سہولت صرف بااثر لوگوں کے لیے ہے؟ کیا ایک غریب قبائلی بچے کی نعش عزت کے ساتھ گھر پہنچانے کی بھی کوئی قیمت نہیں؟
ریاستی حکومت غریبوں اور قبائلیوں کے لیے 108 ایمبولینس سروس اور بہتر طبی سہولیات کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن یہ واقعہ ان دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ضرورت کے وقت ایک باپ کو بنیادی انسانی سہولت بھی میسر نہ آ سکی۔
چائباسا صدر اسپتال کے سول سرجن ڈاکٹر بھارتی منج نے بتایا کہ اسپتال کی جانب سے نعش منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ ایمبولینس فراہم نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق ضلع میں صرف ایک ہیرس گاڑی دستیاب ہے اور اہل خانہ کو دو سے تین گھنٹے انتظار کا مشورہ دیا گیا تھا، لیکن وہ انتظار کیے بغیر روانہ ہو گئے۔
محکمہ صحت کے وزیر عرفان انصاری نے فون پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موت کی صورت میں ایمبولینس فراہم کرنے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں ہے۔ تاہم اگر کسی قبائلی خاندان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کی جانچ کرائی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک غریبوں کو اپنی بے بسی کی نعش خود اٹھانی پڑے گی؟



