
جھارکھنڈ : ہیمنت سرکار کی پولیس حراست میں مسلم جوڑے کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا انکشاف
بوکارو ؍رانچی، ۲؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) جھارکھنڈ کے بوکارونامی ضلع میں ایک مسلم جوڑے کو پولیس حراست میں رات بھر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک 47 سالہ استاد امانت حسین نے الزام لگایا کہ ان کے پیروں کے ناخن نوچے گئے اور اس کے تلوے توڑ دیئے گئے۔
انھیں اپنی زوجہ حضرۃ بیگم کو بوکارو کے پولیس اسٹیشن میں چوری کے شبہ میں بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔ تشدد کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے حسین نے بتایا کہ جمعرات کی شام کو سمن موصول ہونے کے بعد وہ ان کی اہلیہ اور بڑا بھائی پولیس اسٹیشن گئے۔ وہاں انھیں بند کر کے پوچھ گچھ کی گئی، پوچھ گچھ کے بعد ایک پولیس والا آیا اور کہا کہ وہ اس طرح بات نہیں کرے گا۔
پھر اس نے میری ٹانگیں باندھ دیں،پھر مجھے باندھ کر وحشیانہ طریقے سے مارا گیا۔ اس پولیس اہلکار نے مجھے اتنا مارا کہ میں اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکتاتھا،انہوں نے میرے پیروں سے ناخن اکھاڑنے کی بھی کوشش کی۔ متأثرہ حسین نے مزید کہا کہ میری بیوی کو بھی خاتون اور پولیس والوں نے اس کے بالوں سے پکڑ کر مارا پیٹا۔د ونوں نے میڈیا کو بتایا کہ ساری رات تشدد کیا جاتارہا۔
اس کے پڑوسی کے گھر میں ہونے والی چوری سے متعلق معاملہ تھا، جس میں اس پر شبہ کیا گیا تھا۔ متأثرہ حسین کو اس کے پڑوسی نے رات اپنے گھر سونے کے لیے کہا ،جب وہ اپنی بیٹی کے علاج کے لیے دہلی گئے تھے۔ حسین نے بتایا کہ وہ رات کو اپنے گھر سوتا تھا لیکن 15 دسمبر کو اس رات بیمار ہونے کی وجہ سے وہ اس کے گھر نہیں سو سکا۔
اُسی دن چوری کی واردات ہوئی۔ حسین نے کہا کہ ان پر چوری کا الزام لگایا گیا حالانکہ پولیس کو ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حسین اپنے گاؤں مخدوم پور میں ایک مشہور آدمی ہے اور پورا گاؤں اس کے اچھے کردار کی گواہی دے سکتا ہے۔ اس کے گاؤں کے مکھیا کے پولیس سے رابطہ کرنے کے بعد انھیں جمعہ کو رہا کر دیا گیا۔
حسین نے بلدیہ تھانے کے ایس ایچ او نوتن مودی پر اسے اور اس کی اہلیہ پر تشدد کرنے کا الزام لگایا اور اسے اور ان تمام پولیس والوں کو برخاست کرنے کامطالبہ کیا جو اس تشدد میں ملوث ہیں۔حسین نے ہفتہ کو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے پاس درج کرائی گئی اپنی شکایت میں کہا کہ میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بلدیہ پولیس نے مجھے اور میری بیوی کو غیر انسانی طریقے سے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا، یہ تشدد غیر انسانی اور غیر قانونی تھا جس سے میرے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
میں تمام غلط پولیس اہلکاروں اور تھانہ بلدیہ کے ایس ایچ او کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں اور ان کو سخت ترین سزا دینے کی درخواست کرتا ہوں۔



