جتن رام مانجھی نے رام کے وجود کو خیالی اور مفروضہ قرار دیا، مگر نصاب میں رامائن کی شمولیت کے مد عی
پٹنہ، 21ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) رام چرت مانس (رامائن) کو نصاب میں شامل کرنے کے مطالبے سے بہار کی سیاست ابال میں ہے ۔ این ڈی اے کے کئی رہنماؤں نے رامائن اور رام چرت مانس کو نصاب میں شامل کرنے کے بیانات جاری کیے ہیں۔ان مطالبات کے درمیان ، بہار کے سابق سی ایم اور ہندوستانی عوام مورچہ کے صدر جیتن رام مانجھی نے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے بھگوان شری رام کے وجود کو خیالی اور مفروضہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ رام کوئی زندہ حقیقت اور عظیم انسان تھے ، میں اس پر یقین نہیں کرتا،لیکن رامائن میں بتائی گئیں باتیں سیکھنے والی ہیں۔ رام مانجھی نے کہا کہ چاہے وہ خواتین کے احترام کا معاملہ ہو یا بڑوں کے احترام کا ،اس کا سبق ہمیں رامائن میں ملتا ہے۔ رامائن میں شامل چیزوں کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ اس سے اچھی چیزیں سیکھیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں رامائن کو نصاب میں شامل کرنے کے فیصلے کے بعد اِسے بہار میں بھی نصاب میں شامل کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رامائن کو نصاب میں شامل کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا کہ رامائن صدیوں سے ہمیں صحیح راستہ دکھا رہی ہے۔ اگر ہم تاریخ پڑھتے ہیں تو ہمیں رامائن کو بھی پڑھنا چاہیے۔ تاریخ کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ہر وہ موضوع پڑھنا چاہیے جو لوگوں کو بہتر پیغام دے۔



