قومی خبریں

جے این یو تشدد: اے بی وی پی کے نامعلوم ارکان کے خلاف ایف آئی آر درج

نئی دہلی، 11 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جے این یو اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے درمیان ہاسٹل کی میس میں پیش کئے جانے والے نان ویجیٹیرین کھانے کو لے کر تصادم کے سلسلے میں دہلی پولیس نے پیر کو اے بی وی پی کے نامعلوم ارکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے کاویری ہاسٹل میں اتوار کے روز طلبہ کے دو گروپوں کے درمیان رام نومی کے موقع پر مبینہ طور پر نان ویجیٹیرین کھانا پیش کئے جانے والے’میس‘ کو لے کر تصادم ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں چھ طالب علم زخمی ہوئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس (جنوب-مغربی) منوج سی نے کہا کہ انہیں پیر کی صبح جے این یو ایس یو، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی)، ڈی ایس ایف اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کے اراکین کے ایک گروپ کی جانب سے نامعلوم اے بی وی پی کے خلاف شکایت موصول ہوئی۔

شکایت کی بنیاد پر ہم نے تعزیرات ہند کی دفعہ 323، 341، 509، 506 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ حقائق پر مبنی یا سائنسی شواہدجمع کرنے اور مجرمین کی شناخت کیلئے مزید تفتیش جاری ہے۔عہدیدار نے کہا کہ اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ نے بھی مطلع کیا ہے کہ وہ بھی اس معاملے میں شکایت درج کریں گے۔

شکایت موصول ہونے پر ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔تشدد کی کئی مبینہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں، جن میں سے ایک میں ایک طالبہ اختر انصاری کے سر سے خون نکلتا ہوا نظرآرہا ہے۔

’اینٹ پھینک کر مجھے مار نے کی کوشش کی گئی‘ جے این یو تصادم میں زخمی طالبہ کااے بی وی پی پر الزام

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں دو گروپوں کے درمیان لڑائی ہوئی جس میں کئی طلباء زخمی ہوگئے۔ اس معاملے میں دونوں طرف سے الزامات اور جوابی الزامات ہیں۔ ایک فریق کا الزام ہے کہ کاویری ہاسٹل میں نان ویج کھانے کو روکنے کے لیے تشدد ہوا ہے جب کہ دوسرے فریق کا الزام ہے کہ مخالف فریق نے رام نومی کی پوجا کو روکنے کی کوشش کی۔

بائیں بازو کے طلباء نے الزام لگایا ہے کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے ارکان نے ہاسٹل میں آکر میس کے عملے کو نان ویج پیش کرنے سے روکا اور وہاں موجود طلباء پرحملہ کیا۔ ساتھ ہی، اے بی وی پی کے ارکان نے الزام لگایا ہے کہ بائیں بازو کے طلبہ نے رام نومی کے موقع پر منعقد ہونے والی پوجا کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

اے بی وی پی اور بائیں بازو کے طلباء کے درمیان لڑائی میں سر پر چوٹ اور پورے چہرے کے ساتھ ایک لڑکی کی سب سے زیادہ وائرل ہونے والی تصویریں خون آلود ہیں، وہ اختر انصاری ہیں جو جے این یو میں ایم اے سوشیالوجی کی طالبہ ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ ساراتنازعہ کھانے کو لے کر ہے۔ ہم بری طرح مارے گئے۔

مجھے اے بی وی پی والوں نے اینٹوں سے مارا۔ میرے سر پر چوٹ آئی۔میرے ساتھی مجھے وہاں سے ایمس لے گئے۔مجھے راتوں رات وہاں داخل کرایا گیا۔ میں صبح ہی آئی ہوں۔اپنا موقف بیان کرتے ہوئے طالبہ نے بتایاہے کہ شام 4 بجے کے قریب اے بی وی پی کے ارکان کاویری ہاسٹل آئے اور میس کے عملے کو نان ویج پیش کرنے سے روک دیا۔ وہاں کچھ طلبہ جمع تھے، ارکان نے ان پرحملہ کردیا۔

اس کے بعد رات 8 بجے کے قریب مظاہرہ ہوا، جب وہاں بھی جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اخترنے بتایا کہ یہیں اس کے سر پر پتھر مارا گیا۔ دوسری طرف، اے بی وی پی نے پیر کی صبح ایک پریس کانفرنس کی اور کہاہے کہ ہم نے پوجا کا اہتمام کیا تھا۔

جے این یو ایس یو کے 150-200 غنڈے لاٹھیاں لے کر داخل ہوئے۔ انہوں نے ہمارا رام نومی پرچم پھاڑ دیا۔ ہمارے طلباء زخمی ہوئے ہیں۔ ہم رات گئے تک ہسپتال میں رہے۔ کل رات ہم بہت خوفزدہ تھے۔ وہ لاٹھیاں لے کر کھڑے تھے۔ نان ویج کی کوئی مخالفت نہیں تھی۔ یہ ہندو تہواروں کو برداشت نہیں کر سکتے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button