نئی دہلی،29؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بہار-جھارکھنڈ میں نوجوان روزگار کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ RRB-NTPC کے امتحان میں دھاندلی، من مانی اور تاخیر کے خلاف نوجوانوں کا احتجاج جاری ہے۔ ایک طرف حکومت زبردستی بھی کررہی ہے اور دوسری طرف نوجوانوں کو مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانیاں کروا رہی ہے لیکن حکومت اس وقت جاگ اٹھی جب طلباء نے ٹرینیں روک دیں، آگ لگا دی اور بھاری نقصان پہنچایا۔حکومت چاہتی تو روک سکتی تھی۔
اگر حکومت چاہتی تو نوجوانوں کو وقت پر نوکری مل سکتی تھی اور اگر حکومت اب بھی چاہے تو ہر سال لاکھوں نوجوانوں کو سرکاری نوکری مل سکتی ہے کیونکہ ملک میں اب بھی لاکھوں نوکریوں کے مواقع موجود ہیں۔
رویش کمار نے اپنے شو ’پرائم ٹائم ود رویش کمار‘ میں بتایا ہے کہ 2 دسمبر 2021 کو مرکزی وزیرجتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایس پی ایم پی سکھرام سنگھ یادو کے سوال کے جواب میں کچھ معلومات دی ہیں۔ اس کے مطابق یکم مارچ 2020 تک مرکزی حکومت میں 8 لاکھ 72 ہزار عہدے خالی ہیں۔
منظور شدہ آسامیاں 40 لاکھ سے کچھ زیادہ ہیں۔ ان میں سے 21 فیصد اسامیاں خالی ہیں۔ریلوے میں 2,37,295 آسامیاں ہیں۔ منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں 15 فیصد اسامیاں خالی ہیں۔ وزارت داخلہ میں 1,28,842 آسامیاں ہیں۔ یہاں بھی 12 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں 66 فیصد آسامیاں خالی ہیں اور اسامیوں کی کل تعداد 12444 ہے جس میں سے صرف 4217 افراد کام کر رہے ہیں۔
ہر سال ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر میں بھی 26 فیصد عہدے خالی ہیں۔ وزارت آبی وسائل، دریا کی ترقی کی وزارت میں 4557 آسامیاں خالی ہیں جو کہ 42 فیصد ہے۔ اگر نوجوانوں کو ماں گنگا کے نام پر بھی نوکری مل جاتی تو ساڑھے چار ہزار لوگوں کو فائدہ ہوتا۔ ملک کے لیے پالیسی ساز کمیشن، نیتی آیوگ کی حالت بھی دیگر وزارتوں کی طرح ہے۔ یہاں بھی 32 فیصد اسامیاں خالی ہیں۔تاہم جتیندر سنگھ نے پارلیمنٹ میں یہ نہیں بتایا کہ یہ عہدے کتنے عرصے سے خالی ہیں اور کیوں۔ اسی طرح ملک بھر کے سرکاری بینکوں میں 41 ہزار سے زیادہ آسامیاں خالی ہیں۔
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ جانکاری دی تھی۔این ڈی ٹی وی کے نمائندے سورو شکلا نے بھی 22 دسمبر کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ مرکزی حکومت کو بھرتی کے عمل کو مکمل کرنے میں تین تین سال لگ رہے ہیں۔ اسٹاف سلیکشن کمیشن نے 2018 میں 60,000 آسامیوں پر بھرتی کی تھی۔ صرف 55000 کی تقرری ہوئی اور اس میں بھی تین سال لگے۔
اگر باقی 5000 سیٹیں خالی رہیں، تو ان پر بھرتی کرنے کے لیے پورے ملک سے ایس ایس سی جی ڈی کے امیدوار دہلی آئے کہ حکومت ان خالی سیٹوں پر بھی بھرتی کرے، لیکن کسی بھی شعبہ کی وزارت نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں بھی اساتذہ کی 10.6 لاکھ سے زیادہ آسامیاں خالی ہیں۔
سابق مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ 2020-21 تک ملک بھر میں اساتذہ کی 61 لاکھ 84 ہزار 464 آسامیاں منظور ہیں، جبکہ مختلف ریاستوں میں کل 10 لاکھ 60 ہزار 139 عہدے خالی ہیں۔ اس میں بہار اور یوپی سرفہرست ہیں۔



