بین الاقوامی خبریں

اردن: انتخابی امیدوار نے 38 اونٹوں سے کی ووٹروں کی ضیافت

ایک عجیب واقعہ نے مادابا گورنری کے مکینوں کو ہلا کر رکھ دیا

دبئی، 3ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوار اپنے ووٹروں کی حمایت کے حصول کے لیے پیسے کا بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں مگر اردن میں ایک امیدوار نے اپنے مہمانوں کی تکریم کے لیے درجنوں اونٹ ذبح کرکے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا۔اردن میں انتخابی اور سفارتی اصولوں کے برعکس ایک عجیب واقعہ نے مادابا گورنری کے مکینوں کو ہلا کر رکھ دیا، جب پارلیمانی انتخابات کے امیدواروں میں سے ایک نے اپنے مہماںوں کی ضیافت کے لیے 38 اونٹ ذبح کر ”سخاوت اور مہمان نوازی” کی آڑ میں دولت کی نمود ونمائش کی انتہا کردی۔مادابا گورنری میونسپل کورٹ نے امیدوار کیخلاف انوائرمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ کورٹ سے رجوع کیا جب اسے فٹ پاتھوں اور عوامی گلیوں میں اونٹ ذبح کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس میں اسے اسلامی قانون کے مطابق جانوروں کو ذبح کرنے کے قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا۔

عدالت نے امیدوار کو اس کے انتخابی ہیڈ کوارٹر کے قریب مرکزی سڑک کے فٹ پاتھوں پر تقریباً 38 اونٹوں کو ذبح کرنے کے بعد صحت عامہ سے متعلق شکایت کے اندراج کے بعد طلب کیا۔امیدوار کے کزن نے اردن کے ریڈیو کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ایک رات میں ذبح کیے گئے اور پکائے گئے اونٹوں کی کل تعداد 38 تھی۔ ان سب کو ”قبیلہ کے مہمانوں کی ضیافت کے لیے ذبح کیا گیا جہاں امیدوار کی رہائش گا پر پندرہ ہزار مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اونٹوں کے گوشت سے کون سی ڈش تیار کی گئی تو اس نے بتایا ’اونٹ ہمارے امیدوار کے کزن کی طرف سے عطیہ تھے اور انہیں ایک ہی رات میں پکایا گیا تھا، ان کے گوشت سے ’الصاجیہ‘ نامی ڈش تیار کی گئی۔اس حوالے سے اردن میں آزاد الیکشن کمیشن کے سربراہ موسیٰ المعایطہ نے کہا کہ انتخابی ہیڈ کوارٹرز میں کھانے کی تقسیم اور ضیافتوں کا انعقاد اگلے انتںخابی سیزن میں ممنوع ہو سکتا ہے۔

المعایطہ نے ان ترامیم کی اشارہ دیا جن پر آئندہ انتخابات میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی ہیڈکوارٹرز میں ضیافتیں دینا رشوت خوری میں شامل ہے اور اس لیے یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔آزاد الیکشن اتھارٹی کے میڈیا ترجمان محمد خیر الراوشدہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس انتخابی ہیڈکوارٹرز کے اندرکھانے سے متعلق درخواستوں پر پابندی لگانے کا اختیار نہیں ہے۔الرواشدہ نے وضاحت کی کہ اتھارٹی نے 2020ء میں ہونے والے گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں انتخابی ہیڈکوارٹر کے اندر کھانا کھانے کی دعوتوں پر پابندی عائد کر دی تھی جس کی وجہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور عوام کی حفاظت کی شرائط پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ مستقبل میں ضروری ہو سکتا ہے کہ ایسے طرز عمل کو ختم کیا جائے جو حریفوں کے درمیان ناانصافی کا باعث بنیں اور ووٹروں کی مرضی کو متاثر کرنے کی ایک شکل ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button