
جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں کم ووٹنگ، صرف 47 فیصد رائے دہندگان نے ڈالا ووٹ
شام 5 بجے تک ووٹنگ کی شرح صرف 47.16 فیصد ریکارڈ
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں ایک بار پھر مایوس کن ووٹر ٹرن آؤٹ دیکھا گیا۔ منگل کے روز 407 پولنگ اسٹیشنوں پر سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان پولنگ ہوئی، تاہم شام 5 بجے تک ووٹنگ کی شرح صرف 47.16 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پولنگ صبح 7 بجے شروع ہوئی تو ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد نہایت کم رہی۔ صبح 9 بجے تک صرف 9.2 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ تاہم 11 بجے کے بعد معمولی بہتری دیکھی گئی جب طلبہ اور دفتری ملازمین نے اپنا ووٹ ڈالنا شروع کیا۔رہائشی علاقوں جیسے وینگل راؤ نگر، مدهورا نگر، کالاین نگر، یوسف گوڑہ، موتی نگر، شیخ پیٹ اور بورابنڈہ میں ووٹرز نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
دوپہر کے وقت پولنگ اسٹیشنوں پر قطاریں بننے لگیں اور ووٹنگ کی شرح 31.94 فیصد تک پہنچی۔ سہ پہر 3 بجے تک یہ شرح بڑھ کر 40.20 فیصد ہو گئی اور شام 5 بجے تک 47.16 فیصد پر رک گئی۔ دو گھنٹے تک ووٹنگ کی رفتار تقریباً جمود کا شکار رہی۔سیاسی جماعتوں کے امیدوار کمزور ابتدائی ٹرن آؤٹ سے پریشان نظر آئے اور ممکنہ شکست کے خدشے کے پیش نظر پارٹی رہنماؤں کو ووٹرز کو متحرک کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اس مرتبہ کے ضمنی انتخاب میں رنگین بیلٹ پیپرز کا استعمال کیا گیا جس نے ووٹروں کو خاصا متاثر کیا۔ ووٹرز نے کہا کہ یہ نیا نظام پولنگ عمل کو زیادہ شفاف اور آسان بناتا ہے۔کئی ووٹروں خصوصاً پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں نے بتایا کہ رنگین بیلٹ پیپرز کی وجہ سے امیدواروں اور پارٹیوں کی شناخت آسان ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے الجھن کم ہوئی اور ووٹنگ کا تجربہ بہتر ہوا۔ووٹرز نے اس نئی پہل کو سراہتے ہوئے تجویز دی کہ آئندہ انتخابات میں بھی یہی طریقہ اپنایا جائے کیونکہ اس سے انتخابی عمل شفاف اور سمجھنے میں آسان بنتا ہے۔



