تلنگانہ کی خبریں

جوبلی ہلز اجتماعی عصمت ریزی کیس – چار کم عمر ملزمین کی ضمانت منظور

ایک ملزم ہنوز جونیل ہوم میں قید

حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) نامپلی کریمنل کورٹ کے پانچویں ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹین مجسٹریٹ و جونیل جسٹس بورڈ نے آج جوبلی ہلز اجتماعی عصمت ریزی کیس میں ملوث 4 کم عمر ملزمین کی ضمانت منظور کی ہے جس کے نتیجہ میں ان کی رہائی عمل میں آئی جبکہ ایک اور کم عمر ملزم ہنوز جونیل ہوم میں قید ہے ۔ تقریباً 45 دن کے بعد جونیل بورڈ نے ملزمین کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے ۔ دفاع کے وکلاء نے جونیل جسٹس بورڈ میں آج بحث کے دوران مجسٹریٹ کو یہ واقف کروایا کہ عصمت ریزی کیس میں تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور کم عمر ملزمین کی ضمانت منظور کی جائے ۔

وکلاء نے یہ بھی استدلال پیش کیا کہ ملزمین کی شناختی پریڈ ، ڈی این اے ٹسٹ ، ضبط شدہ کار کا فارنسک معائنہ اور متاثرہ لڑکی کا مجسٹریٹ کے روبرو سی آر پی سی کے دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند کیا جاچکا ہے ۔ لہذا ملزمین کا یہ حق ہے کہ انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے ۔ درخواست ضمانت کے خلاف استغاثہ نے عدالت کو یہ بتایا کہ عصمت ریزی کیس کی تحقیقات ہنوز جاری ہیں اور ملزمین کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے ۔ پولیس ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے کی تیاری شروع کی تھی کہ عدالت نے ملزمین کی ضمانت منظور کرلی ہے اور ان کی آج شام رہائی عمل میں آگئی ۔ /8 جون کو پولیس نے اس کیس کے 6 ملزمین بشمول 5 کم عمر نوجوان اور ایک بالغ ملزم سعادت الدین ملک کی اجتماعی عصمت ریزی کیس میں گرفتاری کا اعلان کیا تھا اور انہیں جونیل ہوم اور چنچل گوڑہ جیل میں قید رکھا گیا تھا ۔

واضح رہے کہ /28 مئی کو 17 سالہ کم عمر لڑکی کی نوجوانوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر جوبلی ہلز علاقہ میں واقع ایک پب میں نان الکحولک پارٹی کے بعد کار میں اجتماعی عصمت ریزی کی تھی ۔ پولیس نے 6 ملزمین کو گرفتار کرلیا تھا اور ان کی شناختی پریڈ ، ڈی این اے ٹسٹ وغیرہ بھی کرائے گئے تھے ۔ اس کیس کے بعد اپوزیشن جماعتیں حکومت اور پولیس کو نشانہ بناتے ہوئے ایک عوامی نمائندے کے لڑکے کو اس کیس میں بچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مظاہرے اور احتجاج کئے تھے ۔ بعد ازاں اس جرم سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button