ارون مشرانے سپریم کورٹ کے جج رہتے ہوئے مودی کی تعریف کی تھی
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس ارون کمار مشرا کو قومی حقوق انسانی کمیشن (این ایچ آر سی)کا نیا چیئرمین مقررکیاگیاہے۔جسٹس مشرا کو این ایچ آر سی کا سربراہ بنائے جانے کی قیاس آرائیاں گزشتہ کچھ دنوں سے میڈیا میں تھیں اور اب اسے باضابطہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں کمیٹی نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس ارون کمار مشرا کے نام کی منظوری دی۔
این ایچ آر سی کے صدر کا عہدہ گذشتہ 6 ماہ سے خالی تھا۔ غور طلب ہے کہ جسٹس مشرا سپریم کورٹ کے جج رہتے ہوئے وزیر اعظم مودی کی تعریف کرنے پر زیربحث آئے تھے۔ انہوں نے (جسٹس مشرانے) مودی کوبین الاقوامی شہرت یافتہ وژن قرار دیا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور مودی حکومت کے ممتاز ناقد اسد الدین اویسی نے ٹویٹ کرتے ہوئے جسٹس مشرا کو این ایچ آر سی کا سربراہ بنائے جانے کی خبرلگائی ۔
اپنے ٹویٹ میں اویسی نے لکھاہے کہ وزیر اعظم مودی بین الاقوامی سطح پر سراہے گئے وژن ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹویٹ میں اویسی نے طنزیہ طورپر ایک معنی میں ، وزیر اعظم کی تعریف میں جسٹس مشرا کے الفاظ دہرائے ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ کے آخرمیں سوالیہ نشان (؟؟؟) بھی لگا دیا ہے۔غور طلب ہے کہ پی اے کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ، لوک سبھا اسپیکر اوم بریلا ، راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکاارجن کھڑگے اور راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہریونش کو بھی جسٹس مشراکے لیے منتخب کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی میں شامل کیاگیا تھا۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کھڑگے نے کسی نام پر اعتراض نہیں کیا۔ تاہم انھوں نے کمیشن میں شیڈول ذات،درج فہرست قبائل اوراقلیتی برادری کی طرف سے عدم تقرری پراعتراض کیاتھااورانہوں نے اس سلسلے میں انتخاب کے عمل میں کوئی فراہمی نہ ہونے پر اعتراض درج کیا تھا۔
انھیں بتایاگیا تھا کہ اس عمل میں ایسی کوئی فراہمی نہیں ہے۔ جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مہیش کمار متل اور سابق آئی بی ڈائریکٹرڈاکٹر راجیو جین کو این ایچ آر سی کا ممبر بنایا گیاہے۔



