قومی خبریں

عدلیہ کا عصمت دری اور جبری اسقاط حمل پر دو ٹوک : خواتین جنسی تعلقات میں’ تولیدی‘ حقوق سے دستبردار نہیں ہوسکتیں

دہلی،۶؍اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی میں دوارکا کی ایک عدالت نے ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور اسے کئی بار اسقاط حمل پر مجبور کرنے کے  کی ضمانت مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی عورت اپنے ’پارٹنر‘ کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتی ہے، تو وہ اس عمل میں اپنے ’تولیدی حقوق‘ سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔

دوران حمل احتیاط برتیں, ڈاکٹر شگفتہ انصاری

عدالت نے کہا کہ ا لبتہ جو عورت راضی برضا اپنی جنسی خودمختاری کا استعمال کرتی ہے ،اس کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے اپنے تولیدی حقوق کی خلاف ورزی کی تائید کردی ہے۔ملزم شوبھم سنگھ کو راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے عدالت نے تبصرہ کیا کہ متعدد وضع حمل اور اسقاط حمل کی خلاف و رزی تولیدی خود مختاری چھین لیتی ہے، جو کہ شاید صرف جنسی عمل کے لیے دیا گیا ہو۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جب عورت اپنے ساتھی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتی ہے، تو وہ اپنے دیگر حقوق بشمول تولیدی حقوق سے دستبردار نہیں ہوسکتی ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button