سرورققومی خبریں

سابق چیف جسٹس چندرچوڑ کی وضاحت:سرکاری رہائش میں طویل قیام کا کوئی ارادہ نہیں

جسٹس چندرچوڑ کو 30 اپریل 2025 تک قیام کی اجازت دی گئی تھی

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھارت کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ وہ چیف جسٹس آف انڈیا کی سرکاری رہائش گاہ 5، کرشنا مینن مارگ میں غیر معینہ مدت تک قیام پذیر رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نیت ہرگز ایسی نہیں اور ان پر اس حوالے سے جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں وہ افسوسناک ہیں۔چند روز قبل یہ خبریں سامنے آئیں کہ سپریم کورٹ انتظامیہ نے حکومت کو خط لکھ کر اس بنگلے کا فوری قبضہ لینے کی سفارش کی ہے، جس پر جسٹس چندرچوڑ نے وضاحت دی کہ ان کا قیام وقتی نوعیت کا ہے اور وہ پہلے ہی اس حوالے سے عدالتی و حکومتی حکام کو آگاہ کر چکے ہیں۔

جسٹس چندرچوڑ، جو نومبر 2024 میں دو سالہ مدت مکمل کرکے ریٹائر ہوئے، نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد انہوں نے اپنے جانشین جسٹس سنجیو کھنہ کو مطلع کیا تھا کہ وہ 14، تغلق روڈ پر واقع اپنی سابق عبوری رہائش پر واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم جسٹس کھنہ، جن کی مدت صرف چھ ماہ تھی، نے کہا کہ وہ خود چیف جسٹس کی رہائش میں منتقل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے اور یہ رہائش کچھ ماہ کے لیے بند بھی نہ رکھی جائے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جسٹس گوائی، جو آئندہ چیف جسٹس بننے والے ہیں، نے بھی اس رہائش میں منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کی مدت بھی مختصر ہے۔

اس پس منظر میں، جسٹس چندرچوڑ کو 30 اپریل 2025 تک قیام کی اجازت دی گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ 28 اپریل کو انہوں نے جسٹس کھنہ کو خط لکھ کر مزید مہلت کی درخواست کی، کیونکہ وہ جنوری سے دہلی میں کرایہ پر موزوں رہائش کی تلاش میں ہیں۔

ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے دو بچے خاص ضروریات کے حامل ہیں، جنہیں وہیل چیئر کی سہولت درکار ہے، جبکہ دہلی کے بیشتر فلیٹ ان کے لیے موزوں نہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے دونوں بچوں کو وہیل چیئر کی ضرورت ہے، اور انہیں خود مختار زندگی گزارنے کے لیے ایسے مکانات درکار ہیں جن میں ریمپ، کشادہ دروازے اور آسان رسائی ہو۔ بدقسمتی سے دہلی میں ایسے مکانات نایاب ہیں۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی بیٹیاں، پریانکا اور ماہی، ایک نایاب جینیاتی مرض "نِمالین مایوپیتھی” میں مبتلا ہیں اور ان کا علاج ایمس میں جاری ہے۔

ایک حالیہ سفر کے دوران ان کی بڑی بیٹی کو سانس کی شدید تکلیف ہوئی اور وہ 44 دن تک آئی سی سی یو میں رہیں، جس کے بعد گھر پر ہی ایک آئی سی یو سہولت قائم کرنا پڑی۔جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ حکومت نے انہیں تین مورتی مارگ پر متبادل رہائش الاٹ کی ہے، جو پہلے سپریم کورٹ کے کوٹے میں تھی مگر بعد میں واپس کر دی گئی تھی کیونکہ اس کی مرمت درکار تھی۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ مکان 30 جون تک مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے وضاحت کی کہ وہ پرائیویٹ مکان کرائے پر لینے کی حالت میں نہیں تھے، کیونکہ مالکان ایک سالہ معاہدے کا تقاضا کرتے ہیں، جبکہ انہیں صرف ایک ماہ کے لیے رہائش درکار ہے۔ ’’جب حکومت نے مکان الاٹ کر دیا ہو، تو کرایہ پر مکان لینا ایک اضافی بوجھ بن جاتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سروسڈ اپارٹمنٹس اور ہوٹلوں میں بھی طویل قیام کی کوشش کی، لیکن ان میں وہیل چیئر کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں قیام ممکن نہ ہو سکا۔ ’’رات کے وقت ہنگامی حالات میں بچیوں کو اٹھا کر لے جانا ایک دشوار عمل تھا۔

‘‘انہوں نے کہا کہ اب حکومت کی طرف سے الاٹ کردہ مکان تقریباً تیار ہے اور آئندہ ایک یا دو ہفتوں میں وہ وہاں منتقل ہو جائیں گے۔ ’’ہم سب کچھ باندھ چکے ہیں۔ صرف منتقلی باقی ہے۔‘‘جسٹس چندرچوڑ نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک انہیں حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سابق چیف جسٹسز اور سپریم کورٹ کے ججز کو ماضی میں بھی سرکاری رہائش میں کچھ وقت اضافی قیام کی اجازت دی گئی ہے، اور یہ کسی پر احسان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم اپنی مدت ملازمت کے آخری دن تک عدالتی کام میں مصروف رہتے ہیں، اس لیے نجی انتظامات کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے اعتراف کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد نئی زندگی کا آغاز آسان نہیں ہوتا،میں پیدائشی دہلی والا نہیں ہوں، میں باہر سے آیا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button