قومی خبریں

جسٹس سوریہ کانت بھارت کے 53ویں چیف جسٹس، راشٹرپتی بھون میں حلف برداری

جسٹس سوریہ کانت نے ہندوستان کے 53ویں چیف جسٹس کا چارج سنبھال لیا

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جسٹس سوریہ کانت نے پیر کے روز ہندوستان کے 53ویں چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے راشٹر پتی بھون میں انہیں عہدے کا حلف دلایا، جبکہ تقریب میں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، وزیر اعظم نریندر مودی اور متعدد مرکزی وزراء نے شرکت کی۔

جسٹس سوریہ کانت کا تقرر ایک ایسے عدالتی سفر کا نتیجہ ہے جو ہریانہ کے دیہی پس منظر سے شروع ہوکر سپریم کورٹ کی بلند ترین مسند تک پہنچا۔ انہوں نے آئین 370 فیصلے، پیگاسس معاملے اور بہار انتخابی فہرست جیسے اہم آئینی مقدمات میں نمایاں کردار ادا کیا۔

10 فروری 1962 کو ضلع حصار کے گاؤں پیٹوار میں پیدا ہونے والے جسٹس کانت نے مقامی اسکولوں میں تعلیم حاصل کی اور 1984 میں مہارشی دَیانند یونیورسٹی روہتک سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے وکالت کا آغاز حصار کی ضلعی عدالت سے کیا اور بعد میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے آئینی، سروس اور دیوانی مقدمات میں مہارت حاصل کی۔

صرف 38 برس کی عمر میں وہ ہریانہ کے کم عمر ترین ایڈووکیٹ جنرل بنے اور کچھ ہی عرصے بعد سینئر ایڈووکیٹ کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ 2004 میں انہیں ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی دی گئی، جبکہ وہ ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 2019 میں ان کی سپریم کورٹ میں تقرری ہوئی، جہاں انہوں نے اب تک 300 سے زائد فیصلے تحریر کیے۔

نئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں تقریباً 90 ہزار زیر التوا مقدمات کو اپنی سب سے بڑی ترجیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے عدالتی وسائل کے مؤثر استعمال، نچلی عدالتوں میں فائلنگ کے بہتر نظام، اور پرانے مقدمات کی تیز سماعت پر زور دیا ہے۔

نئے چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات سے نمٹنے کے لیے نظم و ضبط، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور ثالثی کے فروغ کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ ان کا مؤقف ہے کہ ایک انسان دوست اور ذمہ دار عدالتی رویہ ہی نظامِ انصاف کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button