جیوتی ملہوترا پاکستانی انٹیلیجنس ایجنٹس کے رابطے میں، یوٹیوبر پر سنسنی خیز جاسوسی الزامات
پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران جیوتی کو خصوصی سہولیات فراہم کی گئیں
نئی دہلی، 27 مئی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): ہریانہ کی معروف یوٹیوبر اور ٹریول بلاگر جیوتی ملہوترا کو پاکستانی انٹیلی جنس ایجنٹوں سے رابطے کے الزام میں 26 مئی کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں کہ جیوتی نہ صرف چار پاکستانی ایجنٹوں کے ساتھ رابطے میں تھی بلکہ اسے معلوم تھا کہ وہ پاکستان کے خفیہ نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔
پولیس نے اس کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سے تقریباً 12 ٹیرا بائٹس ڈیٹا برآمد کیا ہے جس میں ویڈیوز، تصاویر، چیٹ ریکارڈز اور مالی لین دین کی تفصیلات شامل ہیں۔ ان تمام شواہد کی جانچ تیزی سے جاری ہے تاکہ مزید حقائق سامنے آ سکیں۔
خصوصی سہولیات اور قریبی روابط
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، فرانزک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران جیوتی کو خصوصی سہولیات فراہم کی گئیں، جس سے اس کے پاکستانی ایجنٹوں کے ساتھ قریبی روابط کا انکشاف ہوا ہے۔
ایجنٹوں کے نام تاحال خفیہ
چار پاکستانی ایجنٹوں کی شناخت ہو چکی ہے مگر ان کے نام فی الحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ جیوتی نے ہر ایجنٹ سے انفرادی رابطہ رکھا، اور وہ کسی گروپ چیٹ کا حصہ نہیں بنی۔ اس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ دانستہ طور پر اپنی گفتگو کو خفیہ رکھنا چاہتی تھی۔
جاسوسی نیٹ ورک میں ممکنہ شمولیت
حکام کے مطابق، جیوتی اُن 12 افراد میں شامل ہے جنہیں حالیہ دنوں میں پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش سے پاکستانی جاسوسی نیٹ ورک سے جڑے ہونے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ نیٹ ورک شمالی ہندوستان میں متحرک بتایا جا رہا ہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن سے روابط
پولیس ذرائع کے مطابق، نومبر 2023 سے جیوتی کی بات چیت پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات افسر احسان الرحیم عرف دانش سے ہو رہی تھی۔ یہ رابطہ ہندوستانی فوجی مہم ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بھی قائم رہا۔ حکومت ہند نے 13 مئی کو دانش کو ملک بدر کر دیا۔
غیر ملکی دورے اور ایجنسیز کی پوچھ گچھ
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جیوتی نے پاکستان، چین اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک کا سفر کیا ہے۔ اس معاملے میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA)، انٹیلی جنس بیورو (IB) اور ملٹری انٹیلی جنس کی ٹیموں نے اس سے تفصیلی پوچھ گچھ کی ہے۔
معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریوں اور انکشافات کا سامنا ہو گا۔



