سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

کالا پانی: ہندستان کی جنگ آزادی کی وہ ’قربان گاہ‘ جہاں ہر قیدی موت کی خواہش کرتا تھا

وہ کہانی تو آپ کو یاد ہو گی کہ سنہ 1857 میں انگریز انتظامیہ کے خلاف پنجاب میں مزاحمت کرنے والے احمد خان کھرل کی جان لے لی گئی تو ان کے کچھ ساتھیوں کو پھانسی دی گئی، کچھ توپوں کا نشانہ بنے اور باقی ’کالا پانی‘ بھیجے گئے۔’کالا پانی‘ کی ترکیب برصغیر میں عام طور پر دور دراز مقام کے لیے استعمال ہوتی آئی ہے۔

محاورے میں طویل فاصلے کے لیے ’کالے کوس‘ جیسے الفاظ عرصے سے رائج ہیں۔ قدیم ہندوستانی تصورات تھے کہ وطن سے دور سمندر پار کرتے ہوئے کوئی بھی شخص ’مقدس گنگا‘ سے الگ ہونے کے باعث اپنی ذات سے محروم ہو جائے گا اور وہ سماج سے نکل جائے گا۔سیاسی زبان میں کالا پانی سے مراد بحر ہند میں وہ جزیرے ہیں جہاں انگریز حکمران قیدیوں کو جلا وطن کرتے تھے۔ کلکتہ سے 780 میل جنوب میں چھوٹے اور بڑے ان تقریباً ایک ہزار جزیروں کا مجموعہ جزائر ’انڈمان نکوبار‘ کہلاتا تھا اور دارالحکومت کا نام ’پورٹ بلیئر‘ رکھا گیا۔

تاریخ دان اور محقق وسیم احمد سعید اپنی تحقیق ’کالا پانی: گمنام مجاہدین جنگ آزادی 1857‘ میں لکھتے ہیں کہ ’انگریزوں نے یہاں اپنا پرچم لہرانے کے علاوہ قیدیوں کی بستی اور نو آبادیات کے لیے سنہ 1789 میں پہلی کوشش کی جو ناکام ہوئی۔ بعد میں سنہ 1857 کا ہنگامہ برپا ہوا تو پھانسیوں، گولیوں اور توپ سے انقلابیوں کی جانیں لی گئیں۔ عمر قید بھی دی گئی مگر کسی دور دراز مقام پر ایک تعزیری بستی یا قیدیوں کی کالونی کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ انگریزوں کے ’باغی‘ پھر سے بغاوت یا مزاحمت نہ کر سکیں۔

نظر انتخاب جزائر انڈمان ہی پر گئی۔‘یہ جزائر کیچڑ سے بھرے تھے۔ یہاں مچھر، خطرناک سانپ بچھووں، جونکوں اور بے شمار اقسام کے زہریلے کیڑوں اور چھپکلیوں کی بھرمار تھی۔فوجی ڈاکٹر اور آگرہ جیل کے وارڈن جے پی واکر اور جیلر ڈیوڈ بیری کی نگرانی میں ’باغیوں‘ کو لے کر پہلا قافلہ 10 مارچ سنہ 1858 کو ایک چھوٹے جنگی جہاز میں وہاں پہنچا۔

کھرل کے ساتھی ممکنہ طور پر اسی جہازمیں لے جائے گئے ہوں گے۔ پھر کراچی سے مزید 733 قیدی یہاں لائے گئے اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔سعید لکھتے ہیں کہ ’کالا پانی ایک ایسا قید خانہ تھا جس کے درودیوار کا بھی وجود نہ تھا۔ اگر چار دیواری یا حدود کی بات کیجیے تو ساحل سمندر تھا اور اگر فصیل کی بات کیجیے تب بھی ٹھاٹھیں مارتا ہوا ناقابل عبور سمندر ہی تھا۔

قیدی قید ہونے کے باوجود آزاد تھے لیکن فرار کے سارے راستے مسدود (بند) اور فضائیں مسموم (زہریلی)۔‘’جب قیدیوں کا پہلا قافلہ وہاں پہنچا تو خوش آمدید کہنے کو صرف پتھریلی و سنگلاخ زمین، گھنے اور سر بفلک درختوں والے ایسے جنگل تھے، جن سے سورج کی کرنیں چھن کر بھی زمین بوس نہیں ہو سکتی تھیں۔ کھلا نیلگوں آسمان، ناموافق اور زہریلی آب و ہوا، پانی کی زبردست قلت اور دشمن قبائل۔‘دلی کے ان محقق کے مطابق انڈمان ہی کو ہندوستان کی جنگ آزادی کی قربان گاہ قرار دیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button