دہلی کے کالکاجی میں 1200 جھگیاں منہدم، بلڈوزر لہر کے نیچے دب گئے ہزاروں خواب
مکینوں کا درد: 'یہ صرف گھر نہیں تھے، ہماری زندگی تھی'
نئی دہلی :(اردو دنیا۔اِن/نمائندہ خصوصی)دہلی کے کالکاجی علاقے میں بدھ کی صبح وہ مناظر دیکھنے کو ملے جو انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ہائی کورٹ کی اجازت، ڈی ڈی اے کی کارروائی، اور بلڈوزروں کی گرجتی آوازوں نے بے زمین کیمپ کے مکینوں کے 1200 آشیانوں کو مٹی میں ملا دیا۔
صبح 5 بجے جب شہر کی اکثریت نیند میں تھی، کالکاجی کی گلیوں میں بلڈوزروں کا شور سنائی دیا۔ کئی خاندان اپنے سامان کے ساتھ بے یار و مددگار گلیوں میں نکل آئے۔ کچھ نے رات ہی کو جھگیاں چھوڑ دی تھیں، جبکہ کچھ بلڈوزر کے پہنچتے ہی اپنا سامان سمیٹنے لگے۔
ڈی ڈی اے نے تین دن قبل نوٹس جاری کیا تھا کہ 10 جون تک جھگیاں خالی کر دی جائیں، بصورت دیگر انہدامی کارروائی کی جائے گی۔ جھگی مکینوں کے مطابق، انہیں متبادل رہائش کی کوئی عملی یقین دہانی نہیں دی گئی تھی۔
سیاست بھی گرم، وعدے بھی ٹوٹے
یہ انہدامی کارروائی محض زمین صاف کرنے کا عمل نہیں بلکہ ہزاروں انسانوں کے مستقبل کو غیر یقینی میں دھکیل دینے کا لمحہ تھا۔ عام آدمی پارٹی کی لیڈر آتشی مرلینا، جو ایک دن قبل موقع پر مظاہرہ کر رہی تھیں، نے شدید ردعمل دیتے ہوئے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال داغ دیا:
"صبح صبح 5 بجے سے بے زمین کیمپ میں بی جے پی کا بلڈوزر چل رہا ہے۔ ریکھا گپتا جی، آپ نے تین دن پہلے کہا تھا کہ ایک بھی جھگی نہیں توڑی جائے گی۔ پھر آج یہ کیا ہو رہا ہے؟”
آتشی کی حراست اور مظاہرے کے بعد سیاسی ہلچل میں شدت آ گئی ہے، مگر جھگی والوں کی حالت پر کوئی باضابطہ ردعمل حکومت کی جانب سے سامنے نہیں آیا۔
مکینوں کا درد: ‘یہ صرف گھر نہیں تھے، ہماری زندگی تھی’
جھگی بستی کے ایک بزرگ مکین نے روتے ہوئے کہا:
"یہ جھگی نہیں، ہماری زندگی کا سہارا تھی۔ بچوں کے اسکول قریب تھے، مزدوری قریب تھی، اب کہاں جائیں گے؟”
دوسری طرف ڈی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ زمین پر ناجائز قبضہ تھا اور کارروائی عدالتی حکم کی روشنی میں کی جا رہی ہے۔



