سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

کلپنا موہن,حسین وجمیل نیلی آنکھوں والی معصوم سا چہرہ✍️سلام بن عثمان،کرلاممبئی 70

اردو کی مشہور مصنفہ عصمت چغتائی کی دریافت

مشہور اداکارہ کلپنا موہن 18- جولائی 1946 کو سری نگر میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے پنجابی ڈوگرہ گھرانے میں پرورش پائی۔ ان کے والد آوونی موہن ایک جنگجو سپاہی تھے۔ ساتھ ہی وہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سرگرم رکن بھی تھے۔ کلپنا امبالہ چھاؤنی میں کچھ سال رہیں۔ اور امبالہ کینٹ اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ بچپن سے ڈانس میں دلچسپی ہونے کی وجہ سے انھیں شمبھو جی مہاراج کے یہاں تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ جس کی وجہ سے کلپنا کا بچپن سے ہی رجحان فلموں کی طرف تھا۔ والد آوونی موہن کے پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگریس کی اعلیٰ شخصیات سے کافی قریبی مراسم تھے۔

کلپنا کے شوق کی وجہ سے وہ کتھک کی بہترین رقاصہ تھیں۔ جس کی وجہ سے جب بھی کبھی راشٹر پتی بھون میں وزیر اعظم پنڈت نہرو کے معززین تشریف لاتے تو کلپنا کو کتھک رقص کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ والد نے بیٹی کا نام ارچنا رکھا۔ بالی ووڈ میں فلمی نام کلپنا سے مشہور ہوئیں۔ کلپنا کا شمار بالی ووڈ کی خوبصورت مشہور اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔ کلپنا نے 1960 کی دہائی میں ہندوستانی سنیما میں بطور ہیروئن آغاز کیا۔ کلپنا کو اداکار بلراج ساہنی اور اردو کی مشہور مصنفہ عصمت چغتائی نے دیکھا تو دیکھتے رہ گئے۔ انھوں نے کلپنا میں فلمی گلیمرس دیکھا۔

عصمت چغتائی نے کلپنا سے کہا آپ کتھک کی بہت اچھی رقاصہ ہیں۔ اور کلپنا کو ممبئی آنے کی دعوت دی۔ اس وقت عصمت چغتائی کی بالی ووڈ میں اچھی پکڑ تھی۔ کلپنا نے عصمت چغتائی کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے والدین سے مشورہ کیا اور ممبئی کی طرف رخ کیا۔ ممبئی آنے کے بعد کلپنا نے عصمت چغتائی سے ملاقات کی۔ اس وقت عصمت چغتائی اور ان کے شوہر ایک فلم کی کہانی پر کام کر رہے تھے۔ عصمت چغتائی نے کلپنا کے لیے اپنے شوہر سے سفارش کی۔

شاہد لطیف نے اپنی فلم پکنک میں کلپنا کو پہلا موقع دیا۔ مگر فلم کو سنیما کے پردہ پر آنے میں کافی وقت لگا۔ اس کے بعد کلپنا کو ایک اور فلم ملی "پیار کی جیت” اس کے بعد "ناٹی بوائے” مگر جب 1962 میں فلم "پروفیسر” شمی کپور کے ساتھ سنیما گھروں کی زینت بنی۔ اس وقت "پروفیسر” ایک نایاب تفریحی فلم پسند کی گئی۔ شمی کپور کے ساتھ کلپنا کی کیمسٹری کو بہت پسند کیا گیا۔ اس فلم نے فلمی شائقین کو بے حد خوش کیا۔ اور کلپنا راتوں رات مشہور ہو گئیں۔

اس کے بعد تو فلموں کی لائن لگ گئی۔ 1966 میں ششی کپور اور کشور کمار کے ساتھ فلم "پیار کیے جا”، "تین دیویاں” میں دیو آنند کے ساتھ، "سہیلی” میں پردیپ کمار کے ساتھ "تصویر” اور "تیسرا کون” میں فیروز خان کے ساتھ نظر آئیں۔ 60 کے دہائی میں کلپنا کی کئی فلموں نے خوب نام کمایا اور روپیہ بھی۔ اس دوران ایک فلم بنائی جارہی تھی جس میں مشہور اداکارہ مدھوبالا کو لیا گیا تھا۔

مگر کلپنا کی بڑھتی شہرت اور کامیاب فلموں کی وجہ سے فلم کے ڈائریکٹر نے مدھوبالا کو ہٹا کر کلپنا کو ہیروئن لیا۔ جس کی وجہ سے بالی ووڈ میں کلپنا کے خلاف چہ مگوئیاں اور سازشیں شروع ہوگئیں۔ اس وقت کی بڑی اور مشہور اداکاراؤں کو کلپنا سے خطرہ محسوس ہونے لگا، کہ اب ہماری جگہ کلپنا کو فلمیں دی جائیں گی۔ بالی ووڈ میں کلپنا کا کوئی گاڈ فادر نہیں تھا۔ اور نا ہی معصوم کلپنا بالی ووڈ کی گروپ بندی سے واقف تھی۔ ساتھ ہی وہ فلمی دنیا کی چاپلوسی طریقوں سے واقف بھی نہیں تھیں۔

جس کی وجہ سے فلمی گروپ کا حصہ بھی نا بن سکیں۔ اس دوران فلم کے مشہور ڈائریکٹر نے ایک مرتبہ فلم "پروفیسر” کی مشہور جوڑی شمی کپور اور کلپنا کو لے کر فلم بنانے کا سوچا۔ جب ڈائیریکٹر نے فلم کے متعلق شمی کپور سے بات کی تو شمی کپور نے کلپنا کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ کلپنا ایک سنکی ادکارہ ہے۔ مجھے کسی بھی فلم میں کلپنا کے ساتھ کام کرنا نہیں ہے۔ یہ بات بھی بالی ووڈ کی گروپ سازشوں میں سے تھی۔

شمی کپور کی اس بات کو اس وقت فلمی رسالوں میں بڑی سرخیوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ کیونکہ اس وقت شمی کپور کا شمار بڑے اور مشہور ادکاروں میں ہوا کرتا تھا۔ ساتھ ہی بالی ووڈ پر کپور خاندان کا اچھا خاصہ دبدبہ بھی تھا۔ جس کے چلتے بالی ووڈ کی گلیوں میں باتیں گشت کرنے لگیں۔ اس وجہ سے کلپنا بالی ووڈ میں زیادہ عرصہ تک ٹک نہیں سکیں اور ڈپریشن کے قریب تر ہوگئیں۔

کلپنا نے دو مرتبہ شادی کی۔! 1960 کی دہائی کے وسط میں فلم ڈائریکٹر رائٹر سچن بھومک سے، مگر یہ شادی زیادہ دن ٹک نہ سکی اور کلپنا نے طلاق لے لی۔ دوسری مرتبہ 1967 میں کلپنا نے ہندوستانی بحریہ کے ایک افسر سے شادی کی۔ یہ شادی پانچ سال تک ہی ٹک سکی۔ اس وقت۔کلپنا نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے سسر اکثر زور دیتے کہ ایک بنگلہ میرے بیٹے کے نام کر دو۔ جس کی وجہ سے وہ ڈری سہمی رہتی تھیں۔ ساتھ ہی شوہر کا رویہ بھی بہت بدلتا نظر آرہا تھا۔ یہ تمام تر وجہ کلپنا کی جائداد پر قبضہ کرنا تھا۔ کلپنا نے پانچ سال بعد شوہر سے علیحدگی اختیار کی۔ کلپنا نے اپنی اکلوتی بیٹی کی اکیلے پرورش کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ اسے بہترین تعلیم دی جائے۔

کچھ عرصہ تک ممبئی میں رہیں لیکن اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کے لیے اداکاری کو ترک کیا۔ کلپنا کچھ عرصہ بعد 1990 کی دہائی کے اوائل میں پونے کے مشرقی علاقے میں کلیانی نگر چلی گئیں۔ طبعیت ناساز ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے صاف ستھرے ماحول کا مشورہ دیا۔ جس کی وجہ سے اپنی بقیہ زندگی پونے کے کلیان نگری میں گزاری۔ اس دوران کلپنا نے بیٹی کی شادی کی۔ اس کے بعد بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ چلی گئی۔ کلپنا پونے میں اکیلے پن کی وجہ سے ڈپریشن کی بہت زیادہ شکار ہوگئیں۔ سال 2011 میں کلپنا کا پونہ میں 18۔56 ہیکٹر کا پلاٹ موجے ویساگر گاؤں کے جعلی دستاویزات اور جعلی دستخط کے ساتھ 2007 میں سہارا بلڈرز کو فروخت کردیا گیا۔

اس معاملے کے دباؤ نے کلپنا کی صحت کو اور بھی کمزور کردیا۔ اس درمیان اس کی بیٹی اور داماد ان کی دیکھ بھال کے لیے امریکہ سے پونہ شہر آئے۔ کلپنا اس وقت کینسر کے مرض کا شکار ہوچکی تھیں۔ اس کے علاوہ نمونیا کا بھی بہت گہرا اثر ہوگیا تھا۔ کینسر اور نمونیا کی وجہ سے پونے کے اسپتال اور ریسرچ سینٹر میں دوران علاج 4 جنوری 2012 کے اوائل میں 65 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

ان کے پسماندگان میں ان کی بیٹی پریتی منسوخانی، داماد ہریش اور نواسے یش اور خوشی ہیں۔ کلپنا کی آخری رسومات پونے کے ویکنتھ شمشان میں خاندان اور قریبی دوستوں کے درمیان ادا کی گئیں۔ بالی ووڈ سے کوئی بھی اداکار کلپنا کے آخری سفر میں شامل نہیں تھا۔ کلپنا کی کچھ فلمیں مندرجہ ذیل ہیں. پکنک، پیار کی جیت، ناٹی بوائے، پروفیسر، تین دیویاں، تیسرا کون، پیار کیے جا، تصویر، بیوی اور مکان، نواب سراج الدولہ، اور ایک بیچارہ۔ کلپنا نے ایک دہائی تک بالی ووڈ کے فلمی سفر سے فلمی شائقین کو لطف اندوز کیا۔

سلام بن عثمان

متعلقہ خبریں

Back to top button