قومی خبریں

جب ٹرمپ سامنے آتے ہیں تو مودی کا 56 انچ کا سینہ سکڑ کر 36 انچ رہ جاتا ہے: ترنمول ایم پی کا لوک سبھا میں طنز

مودی جی! آپ نے ایک بار بھی ’ایکس‘ پر کیوں نہیں کہا کہ امریکی صدر جھوٹ بول رہے ہیں؟

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیر کو "آپریشن سندور” پر ہوئی شدید بحث کے دوران ترنمول کانگریس (TMC) کے رکنِ پارلیمان کلیان بینرجی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ "جب آپ ٹرمپ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو آپ کا 56 انچ کا سینہ سکڑ کر 36 انچ کا رہ جاتا ہے”۔انہوں نے یہ بات 10 مئی کو پاکستان کے ساتھ سیزفائر اور اس پر سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے تناظر میں کہی۔ ٹرمپ کا بار بار یہ کہنا رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ان کی ثالثی سے ہوئی، جسے حکومت ہند نے مسترد کیا ہے۔

کلیان بینرجی نے مزید کہا:”مودی جی! آپ نے ایک بار بھی ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر کیوں نہیں کہا کہ امریکی صدر جھوٹ بول رہے ہیں؟ آپ خاموش کیوں رہے؟”ایک ہفتہ قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو "جارحانہ، نتیجہ خیز اور کم سراہا گیا” قرار دیتے ہوئے انہی کو سیزفائر کا سہرا دیا تھا۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ مئی کے تصادم کے دوران 4 سے 5 لڑاکا طیارے مار گرائے گئے، اور تجارتی دباؤ کے ذریعے سیزفائر کروایا گیا۔پیر کو وقفے کے بعد لوک سبھا کا اجلاس دوپہر دو بجے دوبارہ شروع ہوا، جہاں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاہلگام دہشتگرد حملے، آپریشن سندور، اور 10 مئی کے سیزفائر پر تفصیلی بیان دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 10 مئی کو پاکستان کی ڈی جی ایم او نے بھارت سے رابطہ کر کے فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی، جس پر بھارت نے سخت وارننگ کے ساتھ سیزفائر قبول کیا۔

وزیر دفاع نے کہا:”ہم نے واضح طور پر پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ آئندہ کسی بھی دہشتگردانہ اقدام کا جواب اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔”تاہم، اپوزیشن نے حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم مودی سے ایوان میں آ کر بیان دینے کا مطالبہ کیا۔اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ایم پی بپلب دیب نے کہا:”ٹرمپ کیا کہتے ہیں اس کی ہمیں پروا نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارا فرض ہے کہ ملک کی سلامتی یقینی بنائیں۔ آپریشن سندور کے بعد پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ ہر ایم پی کو ملک کے حق میں بولنا چاہیے، نہ کہ دوسروں کے بیانات کو بڑھاوا دینا چاہیے۔

"قابل ذکر بات یہ ہے کہ 10 مئی کو سب سے پہلے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیزفائر کا اعلان کیا تھا، جس کی بعد میں بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق تو کی لیکن کسی بیرونی ثالثی سے انکار کر دیا۔اپوزیشن نے مسلسل حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم اس معاملے پر خود ایوان میں وضاحت دیں کہ کیا واقعی کسی امریکی مداخلت کے بغیر سیزفائر ممکن ہوا یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button