کسان تحریک میں بزرگ خاتون پر تبصرہ مہنگا پڑا: کنگنا رناوت کو ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا
کنگنا کو باقاعدہ ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا۔
ہریانہ، 1 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہماچل پردیش کے منڈی سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور فلم اداکارہ کنگنا رناوت کو پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ سے بڑا قانونی جھٹکا ملا ہے۔ ہائی کورٹ نے کنگنا کی وہ عرضی مسترد کر دی ہے جس میں انھوں نے بزرگ کسان خاتون مہندر کور کی جانب سے دائر ہتک عزتی کے مقدمہ کو خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد کنگنا کو باقاعدہ ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا۔
یہ معاملہ 2021 کے کسان آندولن کے دوران کا ہے، جب کنگنا رناوت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابق ٹوئٹر) پر بٹھنڈا کے گاؤں بہادر گڑھ جنڈیا کی رہنے والی 87 سالہ مہندر کور کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ ’’100-100 روپے لے کر دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین‘‘ میں سے ایک ہیں۔ کنگنا نے اپنے ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ یہی دادی ٹائم میگزین میں سب سے بااثر شخصیت کے طور پر نظر آئی تھیں، اور "یہ 100 روپے میں دستیاب ہیں۔”
یہ پوسٹ بعد میں حذف کر دی گئی تھی، لیکن اس سے پہلے ہی مہندر کور نے 4 جنوری 2021 کو بھٹنڈا کی عدالت میں ہتک عزتی کا مقدمہ درج کرایا۔ تقریباً 13 ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعد، عدالت نے کنگنا کو سمن جاری کرتے ہوئے ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا۔
اس سمن کو چیلنج کرتے ہوئے کنگنا نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی، جسے جسٹس تری بھون دہیا کی سنگل بنچ نے خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ عرضی گزار ایک معروف شخصیت ہیں، ان کا تبصرہ عوامی سطح پر اثر رکھتا ہے، اور ان کے بیان سے مہندر کور کی ساکھ کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ ابتدائی نظر میں آئی پی سی کی دفعہ 499 (ہتک عزتی) اور 500 کے تحت مقدمہ بنتا ہے، اور مجسٹریٹ کا سمن جاری کرنا قانون کے دائرے میں آتا ہے۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب یہ مقدمہ بھٹنڈا کی عدالت میں دوبارہ چلے گا۔ اگر کنگنا اس فیصلے سے غیر مطمئن ہیں تو ان کے پاس سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اختیار ہے۔



