سرورققومی خبریں

کرناٹک اسمبلی الیکشن2023: تمام 224 سیٹوں پر ووٹنگ مکمل ، اُمیداروں کی قسمت ای وی ایم میں بند

خاتون ووٹر کا ووٹ ڈالنے کے الزام میں پولنگ افسر گرفتار

بنگلور، 10مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) Karnataka Elections 2023 کرناٹک میں تمام 224 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ تکمیل کو پہنچ گئی۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔کہیں سے کسی قابل ذکر منفی واقعے کی خبر نہیں ہے۔ الیکشن پرامن رہا اور اب نتائج ای وی ایم میں بند ہوچکے ہیں۔اب دودن بعد نتائج آئینگے۔کرناٹک اسمبلی انتخابات میں شام 5 بجے تک 65.69 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔اس بار الیکشن لڑنے والوں میں کئی بڑے لیڈر ہیں۔ چیف منسٹر بسواراج بومئی خود الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا، کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار، جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی کمار سوامی جیسے کئی بڑے لیڈر میدان میں ہیں۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں سہ رخی مقابلے کے دوران تمام 224 سیٹوں پر ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کو لگاتار دوسری میعاد ملنے کی امید ہے، جب کہ کانگریس ہر بار اقتدار بدلنے کی مشق پر اپنی امیدیں باندھ رہی ہے۔

یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) جو ریاست کی 61 سے زیادہ سیٹوں پر مضبوط پوزیشن میں ہے، ان دونوں قومی پارٹیوں کا کھیل خراب کر سکتی ہے۔کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا نے صبح سویرے شیموگا اسمبلی حلقہ میں ووٹ ڈالا تھا۔ اس موقع پر بی جے پی کے سینئر لیڈر بی ایس۔ یدی یورپا نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ 75-80 فیصد رائے دہندگان بی جے پی کی حمایت کریں گے، ہمیں واضح اکثریت ملے گی اور ہم حکومت بنائیں گے،ہم 130-135 سیٹیں جیتیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ باہر آئیں اور کرناٹک کی ترقی کے لیے ووٹ دیں، جب کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں تاکہ ایک ترقی پسند اور 40 فیصد کمیشن فری ریاست بنائی جاسکے۔

بی جے پی اور کانگریس دونوں کی انتخابی مہم بہت اعلیٰ تھی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے چھ روڈ شو اور 19 عوامی میٹنگیں کیں، جب کہ راہل گاندھی نے کرناٹک میں 12 دن تک ڈیرے ڈالے رکھا۔مشہور اداکار پرکاش راج نے بھی ووٹ ڈالا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے لوگوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ پرکاش راج نے کہا کہ ہمیں فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف ووٹ دینا چاہیے۔ پرکاش راج نے کہا کہ ہمیں فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف ووٹ دینا ہوگا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کو فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کب، کیا کرنا ہے اور آپ کو کیا تکلیف ہوئی ہے؟ ہمیں کرناٹک کو خوبصورت بنانا ہے۔ فرقہ وارانہ طاقتوں کو ختم کرنے کے لیے ہم آہنگی کو برقرار رکھیں اور ووٹ دیں۔

خاتون ووٹر کا ووٹ ڈالنے کے الزام میں پولنگ افسر گرفتار

کرناٹک میں 224 اسمبلی سیٹوں کے لیے آج ووٹ ڈالے گئے۔ اس درمیان ایک خاتون ووٹر کی شکایت کے بعد ایک پولنگ افسر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ خاتون کا الزام ہے کہ افسر نے ووٹنگ کے عمل میں اس کی مدد کی، لیکن ووٹ بی جے پی کے حق میں ڈلوا دیا، جو وہ نہیں چاہتی تھی۔ یہ معاملہ کلبرگی ضلع کے چت پور انتخابی حلقہ کے ایک پولنگ سنٹر پر پیش آیا ہے۔خاتون ووٹر کا نام باسمّا اینٹومن بتایا جا رہا ہے۔

خبر رساں کے مطابق باسمّا نے پولنگ افسر بی سی چوہان سے گزارش کی تھی کہ وہ کانگریس امیدوار پریانک کھڑگے کے حق میں اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ حالانکہ پولنگ افسر نے ان کا ووٹ بی جے پی امیدوار منی کانت راٹھور کے حق میں ڈلوا دیا۔ خاتون نے اس عمل کی مخالفت کی اور جب یہ بات کانگریس کارکنان تک پہنچی تو انھوں نے پولنگ افسر کے خلاف آواز اٹھائی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کانگریس امیدوار پریانک کھڑگے نے موقع پر پہنچ کر الیکٹورل افسر نوین کمار سے شکایت کی۔ بعد ازاں پولنگ افسر کو فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ پر دوسرے افسر کو تعینات کیا گیا۔

شکایت کی بنیاد پر پولنگ افسر کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ پریانک کھڑگے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے بیٹے ہیں۔ ان کا سیدھا مقابلہ بی جے پی امیدوار منی کانت راٹھوڑ سے ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ منی کانت کے خلاف 80 سے زیادہ مجرمانہ معاملے درج ہیں۔اتنا ہی نہیں، مبینہ طور پر منی کانت کی ایک آڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انھیں یہ کہتے سنا گیا تھا کہ ملکارجن کھڑگے کی فیملی کا صفایا کر دیا جائے گا۔

ووٹ ڈالنے کے بعد ڈی کے شیوکمار نے کہا، 2024 میں ملک میں حکومت بنائیں گے
ْ

 کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے لیے جاری ووٹنگ کے دردمیان کانگریس کے ریاستی صدر ڈی کے شیو کمار نے اپنے انتخابی حلقہ کنک پورہ میں حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے آٹو رکشہ پر بھی ہاتھ آزمایا۔ رکشہ میں ان کے ساتھ چند پارٹی کارکنان نے بھی سواری کی۔ڈی کے شیو کمار کی رکشہ چلانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ دریں اثنا، انہوں نے لوگوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں کہ آپ کے ووٹ میں ہماری ریاست کے مستقبل کو پھر سے لکھنے کی طاقت ہے۔ ترقی اور بدعنوانی سے پاک مستقبل کے لیے حق رائے دہی کا استعمال ضرور کریں۔ڈی کے شیوکمار نے اپنے حلقہ انتخاب کنک پورہ میں ووٹ ڈالنے کے بعد آٹو رکشہ چلایا۔

اس دوران ان کے پاس ایک خاتون مسافر کے طور پر بیٹھی تھی، جبکہ پارٹی کے کچھ حامی اور کارکن پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے آٹو رکشہ بھی ساتھ چل رہے تھے۔ شیوکمار ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 2023 میں کرناٹک اور 2024 میں ملک میں حکومت بنائیں گے۔ اس کے علاوہ ڈی کے شیوکمار نے جے ڈی ایس کے ساتھ اتحاد کے امکانات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

کنک پور میں ووٹ ڈالنے سے پہلے شیوکمار نے اپنی خاندانی دیوی کینکرما کا آشیرواد لیا۔ انہوں نے کہا ’’ماں کینکرما سب کی فلاح و بہبود کریں۔ میں نے ریاست کی خوشحالی کے لیے ’’پرارتھنا‘‘ کی۔ گزشتہ ہفتے شیوکمار نے کہا تھا کہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو خاطر خواہ اکثریت ملے گی اور پارٹی وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے معاملے پر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس کے پابند ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button