کرناٹک: تبدیلی مذہب بل کو ملی کابینہ سے منظوری، فی الحال آرڈیننس کی شکل میں کیا جائے گا نافذ
بنگلور، 12 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک میں تبدیلی مذہب مخالف بل کو کابینہ کی منظوری مل گئی۔ اب اسے قانون ساز اسمبلی کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ تب تک یہ آرڈیننس کی صورت میں نافذ رہے گا۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا گیانندرا نے یہ اطلاع دی۔ تبدیلی مذہب بل پر کرناٹک کے وزیر مادھو سوامی نے کہا ہے کہ تبدیلی مذہب مخالف قانون کے سامنے آرڈیننس لانا ہوگا۔
اسمبلی میں جو بھی پاس ہوا، اسے بغیر ترمیم کے آرڈیننس بنا کر نافذ کیا جائے گا، ہم آرڈیننس پاس کرانے کے لیے کونسل میں جائیں گے۔قبل ازیں، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومائی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک متنازعہ تبدیلی مذہب مخالف بل لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ دراصل کرناٹک میں حکمراں جماعت کے پاس ریاستی مقننہ کے ایوان بالا میں اکثریت نہیں ہے، اس لیے بومئی حکومت نے ایسا کیا۔ حال ہی میں، تبدیلی مذہب مخالف بل کے بارے میں ریاست کے وزیراعلی بسواراج بومئی نے کہا تھا کہ چونکہ اس وقت اسمبلی کا اجلاس نہیں چل رہا ہے، اس لیے ہم اسے ایک آرڈیننس کے ذریعے کابینہ میں لا رہے ہیں۔
جہاں منظوری کے بعد اسے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔فی الحال کرناٹک قانون ساز اسمبلی کے ایوان بالا میں بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ کرناٹک میں جون کے مہینے میں ایم ایل سی انتخابات ہونے والے ہیں، جس میں بی جے پی کو کرناٹک لیجسلیچر کے ایوان بالا میں اکثریت مل سکتی ہے۔



