
کرناٹک: امتیازی سلوک سے تنگ آکر لڑکی نے کھانے میں ملایا زہر ، والدین سمیت 4 افراد کی موت
بنگلور 19اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک میں ایک لڑکی نے امتیازی سلوک سے تنگ آکر اپنے پورے خاندان کو زہر دے کر ہلاک کردیا۔ جب فارنسک رپورٹ منظر عام پر آئی تو انکشاف ہوا کہ اس خاندان کی موت رات کے کھانے میں پائے جانے والے زہر سے ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق داونگیر میں ایک 17 سالہ لڑکی کو کچھ عرصے سے اپنے خاندان میں امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کو پڑھائی نہ کرنے کی وجہ سے مارا پیٹا گیا اور کھیتوں میں کام پر بھیج دیا گیا۔ اسے لگا کہ اس کے خاندان کے افراد اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔اس سے تنگ آکر لڑکی نے ایک رات پورے خاندان کیلئے کھانا پکایا اور اس میں زہر ملا کر گھر والوں کے سامنے پیش کیا۔
اس کے والدین، چھوٹی بہن اور دادی کھانا کھا کر مر گئیں۔ تاہم ان سب میں اس کے بڑے بھائی کی جان بچ گئی۔ یہ واقعہ جولائی میں پیش آیا لیکن یہ تین ماہ بعد آنے والی فارنسک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
فارنسک رپورٹ کے مطابق 12 جولائی کی رات لڑکی نے کھانے میں زہر ملا کر اپنے گھر والوں کو کھلایا، جس کی وجہ سے 80 سالہ دادی، 45 سالہ والد اور 40 سالہ والدہ اور 16 سالہ چھوٹی بہن اور 22 سالہ بھائی کی صحت بگڑنے لگی۔
سب کو قریبی ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ چاروں ارکان علاج کے دوران دم توڑ گئے۔ تاہم بھائی کی جان بچ گئی۔پولیس نے بتایا کہ 17 سالہ لڑکی رادھیکا اپنے نانا کے گھر میں پرورش پائی۔ تین سال پہلے اس نے اپنے والدین کے ساتھ رہنا شروع کیا۔
لڑکی کی نانی اور گھر ایک ہی گاؤں میں ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکی کو لگا کہ اسے نانی کے گھر پر زیادہ پیار مل رہا ہے اور اس کے والدین اس کے بہن بھائیوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، بعض اوقات اسے کھیت میں کام کرنے کیلئے بھیجتے ہیں۔
کام نہ کرنے پر اسے مارا پیٹا بھی گیا۔ والدین کے امتیازی سلوک سے تنگ آکر لڑکی نے سب کو مارنے کا منصوبہ تیار کیا اور کھانے میں زہر ملا کر سب کو کھلادیا۔



