بنگلورو ، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک پولس نے جبری تبدیلی مذہب کے معاملے میں شہر میں پہلی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ پولیس نے ہفتے کے روز کہا کہ ملزم نے اپنی بیوی کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا تھا۔پولیس کے مطابق 26 سالہ سید معین پر ایک ہندو لڑکی کو زبردستی اسلام قبول کرنے کا الزام ہے۔ملزم اتر پردیش کے گورکھپور کی ایک 18 سالہ لڑکی سے محبت کرتا تھا جو اپنے خاندان کے ساتھ سلیکن ویلی میں رہتی تھی۔ ملزم نے مبینہ طور پر لڑکی پر شادی کی خواہش رکھتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔پولیس نے بتایا کہ لڑکی نے مسجد میں جا کر اسلام قبول کر لیا تھا۔
لڑکی کے والد جو کہ پیشے کے اعتبار سے پینٹر ہیں۔لڑکی کی والدہ نے اس سے کہا کہ وہ جلد بازی میں فیصلہ نہ کرے۔5 اکتوبر کو لڑکی گھر واپس نہیں آئی۔ ایک ہفتے بعد وہ پولیس کے سامنے پیش ہوئی۔ والدین نے بنگلورو کے یشونت پور پولیس اسٹیشن میں تبدیلی مذہب مخالف ایکٹ (Karnataka Protection of Right to Freedom of Religion Act)کے تحت مقدمہ درج کرایا۔پولیس نے تفتیش شروع کرنے کے بعد لڑکی کو زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں ملزم کو گرفتار کرلیا۔ وزیر داخلہ اراگا گیانندرا نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات لیں گے۔



