سی ایم بسواراج بومائی کا طنز، کانگریس دیوالیہ پن کا شکار ہے
بنگلور ،17 نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک اسمبلی انتخابات میں چھ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، لیکن انتخابات سے قبل ریاست میں بسواراج بومئی کی بی جے پی حکومت الزامات میں گھری نظر آرہی ہے۔ تازہ ترین معاملہ ووٹرز کے ڈیٹا کی چوری کا الزام ہے۔ جہاں بنگلورو کی ایک این جی او پر ووٹروں کی بیداری کی آڑ میں ووٹروں کا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد کانگریس نے حکمراں بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ اس این جی او کے حکومت میں آئی ٹی منسٹر اشوت نارائن کے ساتھ تعلقات ہیں، کانگریس نے سی ایم بسواراج بومائی اور بی بی ایم پی کمشنر کے خلاف پولس کیس درج کرایا ہے۔
درحقیقت جس این جی او نے ووٹر بیداری کی آڑ میں ووٹروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے وہ ملشورم کی ایک این جی او ہے۔ جہاں سے آئی ٹی منسٹر اشوت نارائن بھی ایم ایل اے ہیں۔ اس این جی او نے بی بی ایم پی سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹر بیداری مہم چلانا چاہتی ہے اور وہ یہ کام مفت کریں گے۔ اس سلسلے میں بی بی ایم پی کمشنر جو کہ ضلع الیکشن افسر بھی ہیں، نے 20 اگست کو این جی او کو بیداری مہم چلانے اور الیکشن افسر کی موجودگی میں ووٹر لسٹ چیک کرنے کی اجازت دی۔اس این جی او کے خلاف پہلا الزام یہ تھا کہ اس نے اپنے فیلڈ آفیسر کو ایک بلاک سطح کے افسر کا جعلی سرکاری شناختی کارڈ دیا تھا، جس کی مدد سے اس نے ووٹرز کی آگاہی کے نام پر ووٹرز کے تمام اہم ڈیٹا اکٹھا کیا تھا۔
اس ڈیٹا کو بی بی ایم پی یا الیکشن کمیشن کے ساتھ شیئر کرنے کے بجائے اسے ڈیجیٹل سمکچھا نامی اپنی ایپ میں اپ لوڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ این جی او 2 اور کمپنیاں چلاتی ہے جو سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے الیکشن مینجمنٹ کا کام کرتی ہے۔اس سے پہلے اس این جی او نے سب سے پہلے یہ کام مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ میں کیا، اس کے بعد اسے بنگلورو کی تمام 28 سیٹوں کا کام سونپا گیا۔ جب یہ معاملہ علم میں آیا تو بی بی ایم پی نے فوری کارروائی کی اور بدھ کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ اس این جی او نے قواعد کو نظر انداز کیا ہے، اس لیے انہیں دیا گیا کام منسوخ کردیا گیا ہے۔
کانگریس پہلے ہی بومئی حکومت پر 40 فیصد کمیشن کا الزام لگا رہی تھی، ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس گھوٹالے کی اطلاع دو مہینے پہلے ملی تھی اور اب وہ ثبوت اکٹھا کر رہی ہے۔ بنگلورو کے مسلم اکثریتی علاقے شیواجی نگر میں اس این جی او کی ٹیم جعلی بلاک آفیسر بن کر آئی اور صرف ان لوگوں کو نشانہ بنایا، جوممکنہ طور پر کانگریس کے حامی ہوسکتے ہیں۔ان میں سے کئی مسلم لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے تھے تاکہ وہ کانگریس کے حق میں ووٹ نہ دے سکیں، ساتھ ہی ایک خالی مکان کی مخصوص نقشہ سازی بھی کی گئی تاکہ باہر کے لوگوں کو یہاں جوڑاکیا جا سکے۔ کانگریس کے شیواجی نگر ایم ایل اے رضوان ارشد کو سب سے پہلے اس بارے میں پتہ چلا۔ کانگریس لیڈر الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں شبہ ہے کہ بی جے پی پوری ریاست میں یہ کام کر رہی ہے تاکہ وہ الیکشن جیت سکے۔
وزیر اعلی بسواراج بومئی اور بی بی ایم پی کمشنر کے خلاف پولیس شکایت درج کرنے کے ساتھ، کانگریس نے اب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف اس معاملے پر الزامات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی بسواراج بومئی نے کہا کہ کانگریس بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگا رہی ہے، یہ کانگریس کا دیوالیہ پن ہے۔
ملیشورم کے ایم ایل اے اور آئی ٹی وزیر نارائن نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن اور پارٹی کا کام ہے یا اس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔کانگریس نے اس پورے معاملے پر پریس کانفرنس کر کے سی ایم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا نے الزام لگایا کہ بومئی حکومت کے لیے بنگلورو شہر میں گھر گھر ووٹروں کی معلومات جمع کرنے کے لیے ایک نجی این جی او کی خدمات حاصل کرنا ایک انتخابی بددیانتی ہے۔دوسری طرف سی ایم بسواراج بومئی نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔



