بین ریاستی خبریں

کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران طالبات کے وکیل کی زبردست جرح

گھونگٹ، پگڑی اور صلیب کا کیا ہوگا؟صرف حجاب پرروک امتیازی سلوک

بنگلورو16فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک کے حجاب تنازعہ کو لے کر ہائی کورٹ نے بدھ کو چوتھے دن سماعت کی۔ اس دوران چیف جسٹس نے مسلم طالبات کے دلائل سنے جنہوں نے کلاس میں حجاب پر پابندی کو عدالت میں چیلنج کیاہے۔ درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ روی ورماکمارنے زبردست بحث کرتے ہوئے کہاہے کہ صرف حجاب کا ذکر کیوں ہے جب لوگ روزانہ سیکڑوں مذہبی علامات جیسے گھونگٹ، چوڑیاں، پگڑی، صلیب پہنتے ہیں۔

انہوں نے کہاہے کہ میں صرف سماج کے تمام طبقات میں مذہبی علامتوں کے تنوع کو اجاگر کر رہا ہوں۔ حکومت صرف حجاب کا انتخاب کر کے امتیازی سلوک کیوں کر رہی ہے؟ کیا چوڑیاں پہنی جاتی ہیں؟ کیا وہ مذہبی علامت نہیں ہیں؟\

آپ صرف ان غریب مسلم لڑکیوں کو کیوں چن رہے ہیں؟ کمار نے کہاہے کہ یہ صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ہے کہ درخواست گزار کو کلاس سے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ٹیکہ پہننے والی لڑکی کو باہر نہیں بھیجا جا رہا، چوڑی پہننے والی لڑکی کو بھی نہیں بھیجا جا رہا ہے۔

صلیب پہننے والے عیسائی کیوں نہیں، صرف یہ لڑکیاں؟ یہ آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ حجاب کی اجازت ہے، چوڑیاں پہننے کی اجازت ہے تو صرف یہ (یعنی حجاب) کیوں؟ سکھ کی پگڑی، عیسائی کی صلیب کیوں نہیں؟

کمار نے دلیل دی ہے کہ کسی اور مذہبی علامت کو نہیں سمجھا جاتا۔صرف حجاب ہی کیوں؟ کیا یہ ان کے مذہب کی وجہ سے نہیں؟ مسلم طالبات کے ساتھ امتیازی سلوک واضح طور پر مذہب کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس لیے یہ دشمنی پر مبنی امتیازی سلوک ہے۔ لڑکیوں کو حجاب پہننے اور کلاس میں داخل ہونے سے روکنے کی مثال دیتے ہوئے کمار نے کہاہے کہ ہمیں اجازت نہیں تھی۔ ہماری بات نہیں سنی گئی لیکن پابندی لگائی گئی ۔کیا اسے استاد کہا جا سکتا ہے؟

متعلقہ خبریں

Back to top button