قومی خبریں

کرناٹک: وزیر داخلہ کے انتباہ کے باوجودصبح 5 بجے سے لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسا کا ورد ،ریاستی حکومت ناکام

بنگلورو، 9 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)
مہاراشٹر کے بعد اب کرناٹک میں بھی لاؤڈ اسپیکر کا تنازعہ گہرا ہوگیا ہے۔ یہاں ہندو تنظیم شری رام سینا کے اعلان کے بعد پیر کی صبح 5 بجے سے لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسا کا ورد کیا گیا۔ شری رام سینا کے کارکنان نے ہبلی اور میسور کے ہنومان مندر میں بھجن گائے۔ اس دوران لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسہ کا ورد بھی کیا گیا۔اس سے قبل شری رام سینا کے سربراہ پرمود متالک نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ 9 مئی سے ریاست کے 1000 سے زیادہ مندروں میں صبح 5 بجے سے ہنومان چالیسا پڑھی جائے گی۔

یہ اعلان مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے خلاف کیا گیا۔شری رام سینا کے اعلان کے بعد پوری ریاست میں پولیس ہائی الرٹ ہے۔ مندروں کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ دراصل شری رام سینا کے اعلان کے بعد ریاستی وزیر داخلہ ارگا گیانندر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صوتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سخت اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب عدالت کے حکم پر سختی سے عمل کریں اور قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے متعدد کارکنان کو حراست میں بھی لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button