بین ریاستی خبریں

کرناٹک: سنجے راوت نفرت انگیز تقریر کیس کے سلسلے میں میں طلب

مسٹر راوت نے مبینہ طور پر 30 مارچ 2018 کو کہا تھا کہ ’اگر کرناٹک کے لوگ ایک کو نقصان پہنچاتے ہیں تو شیو سینا میں کرناٹک کی 100 بسوں کو نقصان پہنچانے کی ہمت ہے

بیل گاوی ،29نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بیلگاوی کی ایک عدالت نے مہاراشٹرا-کرناٹک سرحدی تنازعہ کے درمیان شیوسینا (ادھو ٹھاکرے دھڑے) کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت کو اشتعال انگیز تقریر کے لئے طلب کیا ہے۔خیال رہے کہ عدالت نے انہیں یکم دسمبر کو طلب کیا ہے۔ مسٹر راوت نے مبینہ طور پر 30 مارچ 2018 کو کہا تھا کہ ’اگر کرناٹک کے لوگ ایک کو نقصان پہنچاتے ہیں تو شیو سینا میں کرناٹک کی 100 بسوں کو نقصان پہنچانے کی ہمت ہے‘۔انہوں نے جمہوریت پر ہجوم پرستی کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سرحدی مسائل پر مہاراشٹرا انٹی گریشن کمیٹی (ایم ای ایس) کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر، کاویری اور بیل گام، کاروار اور سرحدی مسائل اس ملک میں حل طلب ہیں۔مسٹر راوت نے کہاکہ جمہوری طریقے سے الیکشن لڑنے اور جیتنے کے باوجود، اگر جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔

کرناٹک میں شیوسینا اسمبلی انتخابات لڑے گی، لیکن سرحدی علاقوں میں ہم ایم ای ایس کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔سمن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر راوت نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ ان پر حملہ کیا جائے گا اور انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت نے مجھے 2018 کی تقریر پر عدالت میں حاضر ہونے کے لئے کہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مجھے عدالت جانا چاہیے اور مجھ پر حملہ ہو گا۔ یہ میری معلومات ہے۔ مجھے وہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومئی نے کہا کہ موجودہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ریاست مہاراشٹر کے جاٹ تعلقہ کے کچھ گاؤں کی طرف سے کرناٹک میں ضم ہونے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button