بین ریاستی خبریںسرورق

 کرناٹک: مسجد میں جے شری رام کا نعرہ لگانے والے دو نوجوان گرفتار

کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع میں مبینہ طور پر مسجد میں گھس کر ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے کا معاملہ سامنے آیا

 بنگلورو، 26ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع میں مبینہ طور پر مسجد میں گھس کر ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کدبہ پولیس نے اس کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ مسجد کے اندر نعرے بازی کا واقعہ اتوار کی رات 11 بجے کے قریب سامنے آیا۔رات کے وقت دو نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر آئے اور مردہلا بدریا جامع مسجد کے احاطے میں گھس گئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مسجد کے سربراہ سے شکایت موصول ہوئی تھی کہ مسجد کے اندر ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے گئے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا اور دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کی شناخت 26 سالہ سچن رائے اور 24 سالہ کیرتن پجاری کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں نوجوان کدابا تعلقہ کے کیاکمبا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ فی الحال پولس اس معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، ‘مسجد چار دیواری سے گھری ہوئی ہے۔

کدبہ-مردھالہ روڈ کے سنگم پر مسجد کا ایک گیٹ ہے۔ 24 ستمبر کی رات تقریباً 11 بجے دونوں نوجوان مسجد کے اندر داخل ہوئے اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے لگے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ دونوں نوجوانوں نے مسلمانوں کو یہاں رہنے کی اجازت دینے پر دھمکی بھی دی۔واقعہ کے وقت مسجد کے مولوی اور اس کے سربراہ اپنے دفتر میں موجود تھے۔ انہوں نے باہر نکل کر دیکھا کہ دو نامعلوم افراد مسجد سے نکل رہے ہیں۔ انہوں نے فوراً مسجد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سکین کی۔ انہیں معلوم ہوا کہ مسجد کے سامنے والی سڑک پر ایک مشکوک کار گزر رہی ہے۔

مسجد کمیٹی کے رکن محمد فضل نے کہا کہ یہ علاقہ ہندو اور مسلم کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کے لیے جانا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ملزمان اس اتحاد کو برداشت نہیں کر سکے ا-ر فرقہ وارانہ منافرت اور کشیدگی پیدا کرنے کی سازش کی۔ کدابہ کے سب انسپکٹر ابھی نندن نے کہا کہ پیر کو شکایت موصول ہونے کے بعد ہم نے آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ اس معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ ملزمان کسی تنظیم سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب انسپکٹر نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے شراب کے نشے میں یہ حرکت کی۔ ان کا کوئی پرانا مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button