سرورققومی خبریں

جموں و کشمیر: بے گناہ ثابت ہونے کے بعدجیل سے 11 سال گھرلوٹابشیر

والدکو آخری لمحے نہ دیکھ پانے کاہے افسوس

سرینگر/ یکم جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سرینگر کے رینواری کے رہائشی 44 سالہ بشیر احمد بابا 11 سال #گجرات کی #جیل میں رہنے کے بعد گھر واپس آیا ہے۔ بشیر کو افسوس ہے کہ وہ آخری وقت اپنے والد کو نہیں دیکھ پائے۔اگنو سے اردو میں گریجویشن کرنے کے بعد بشیر نے #سرینگر میں ایک این جی اومایا فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کرتاتھا، وہ کمپیوٹربھی چلاتاتھا اور دوسرے کاموں میں تیز رفتاربھی تھا،اس لئے اعلی تربیت کیلئے فاؤنڈیشن نے 2010 میں بشیر کو گجرات بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

غیر سرکاری تنظیم مایا فاؤنڈیشن کے کیمیا کلیفٹ سینٹر کیلئے کیمپ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ کلیفٹ لپ کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی تلاش اور ان کا علاج کرتی تھی یہ این جی او، وہ جموں و #کشمیر کے دور دراز علاقوں میں کیمپ بھی لگایاکرتاتھا۔17 فروری 2010 کو بشیر گھر سے #گجرات کے احمد آباد کی طرف نکلا، جہاں اسے پہلے کمپیوٹر سینٹر میں تربیت لینی تھی اور پھر دوسرے فاؤنڈیشن آفس میں 1-2 ماہ تک کام کرنا تھا لیکن احمد آباد پہنچنے کے ایک ہفتہ کے اندر ہی اسے گجرات اے ٹی ایس نے پکڑ لیا۔

بشیر کے ہمراہ ایک اور شخص کو بھی #گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن پولیس نے اسے رہا کردیا تھا اور کئی دن تک بشیر سے تفتیش کی گئی تھی لیکن اس دوران بشیر کو معلوم نہیں تھا-کہ اس کا جرم کیا ہے اور اسے کیوں گرفتار کیا گیا۔بشیر نے کہاکہ اس سے قبل میں نہیں جانتا تھا کہ مجھے کیوں پکڑا گیا ہے لیکن جب مجھے عدالتی ریمانڈ کے لئے لیا گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اے ٹی ایس مجھے حزب المجاہدین کا دہشت گرد کہہ رہی ہے اور اس نے مجھ پر گجرات میں اس تنظیم میں بھرتی کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔

اے ٹی ایس نے اپنی چارج شیٹ میں بشیر کو #دہشت گرد بھرتی کرنے والا نامزد کیا تھا اور اس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی ای پی سی سیکشن 120 (بی) کی دفعہ 16، 17، 18، 20 کے تحت مقدمہ درج کیاتھا۔ بشیر نے کہاکہ مجھے پہلے دن سے ہی معلوم تھا کہ میں بے قصور ہوں اور میں نے ان 11 سالوں سے ہر روز اپنی بے گناہی کی بات کی۔

بشیر نے نم آنکھوں سے کہا کہ آخر کار 11 سال کے طویل عرصے کے بعد میری بے گناہی صحیح ثابت ہوئی اور میں گھر واپس آگیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ اپنے والد کوآخری وقت پرنہیں دیکھ سکا۔بشیر کے والد کا انتقال 2017 میں ہوا اور آخری لمحے میں بھی بشیر اپنے والد کا چہرہ نہیں دیکھ پائے، جو ان کے لئے بہت افسوسناک تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button