بی آر ایس نے کویتا کو معطل کیا، کے سی آر کی بیٹی کا پارٹی قیادت پر سنگین الزام
بی آر ایس معطلی کے بعد ایم ایل سی عہدہ اور پارٹی رکنیت سے استعفیٰ کا امکان
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تلنگانہ کی سیاست میں بڑا دھماکہ خیز موڑ آیا ہے۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے منگل کو پارٹی صدر کے چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) کی بیٹی اور ایم ایل سی کویتا کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں معطل کر دیا۔ پارٹی کے سینئر رہنما ٹی رویندر راؤ اور سوما بھارت کمار نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کویتا کے حالیہ بیانات کو "پارٹی مخالف” سمجھا گیا، اس لیے کارروائی کی گئی۔
پارٹی نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا: "ایم ایل سی کویتا کے حالیہ رویے اور مسلسل پارٹی مخالف سرگرمیوں سے بی آر ایس کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے پارٹی صدر کے چندرشیکھر راؤ نے انہیں فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
ذرائع کے مطابق بی آر ایس کے رَجَت اتسو پروگرام کے بعد سے ہی کویتا اور پارٹی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے تھے۔ اس دوران انہوں نے کے سی آر کے خطاب پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے ایک خط جاری کیا، جس نے سیاسی ہلچل مچا دی۔بعد ازاں کویتا نے اپنے بھائی اور پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ KTR کے خلاف بھی سخت تبصرے کیے۔ یہاں تک کہ سابق وزیر جگدیش ریڈی کو "للی پُٹ” کہہ کر طنز کا نشانہ بنایا۔
کویتا نے پیر کو اپنے کزن اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ کے ساتھ ساتھ سابق راجیہ سبھا ایم پی جے سنتوش کمار پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں نے موجودہ کانگریسی وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے ملی بھگت کر کے اثاثے بنائے اور کے سی آر کی شبیہ کو خراب کرنے کی سازش کی۔
کویتا نے کہا: "کچھ لوگ، جو کے سی آر کے قریب ہیں، ان کے نام کا استعمال کرتے ہوئے فائدے اٹھاتے رہے ہیں۔ آج انہی کی بداعمالیوں کی وجہ سے کے سی آر پر کرپشن کے داغ لگ رہے ہیں۔ ہریش راؤ، جو پانچ سال تک آبپاشی کے وزیر رہے، کیا انہوں نے اس منصوبے میں بڑا کردار ادا نہیں کیا؟”
انہوں نے مزید کہا کہ ریونت ریڈی، ہریش راؤ اور سنتوش کمار کو "تحفظ” دے رہے ہیں اور یہ سب مل کر کے سی آر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کویتا نے یقین ظاہر کیا کہ ان کے والد سی بی آئی انکوائری سے "موتی کی طرح صاف” نکلیں گے۔
کویتا کے الزامات اس وقت سامنے آئے جب کانگریس حکومت نے کالیشورم لفٹ ایریگیشن پراجیکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی۔ بی آر ایس حکومت کے دور میں بنے اس منصوبے کی لاگت اور ڈیزائن پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
اہم بات یہ ہے کہ اسی دوران بی آر ایس کے ورکنگ صدر اور کویتا کے بھائی کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے اسمبلی مباحثے میں کے سی آر کے دلائل کو "ماسٹر کلاس” قرار دے کر ان کی تعریف کی۔
اب تازہ تنازع اس وقت بڑھ گیا جب کویتا نے سینئر لیڈرز ہریش راؤ اور سنتوش راؤ پر سنگین الزامات لگائے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ یہ رویہ بی آر ایس کے اتحاد اور عوامی امیج کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کویتا اور پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ جولائی میں کے ٹی آر نے کان کنوں کی بااثر یونین کے انچارج کے طور پر K ایشور کو مقرر کیا تھا، جس سے کویتا کو سائیڈ لائن کرنے کی قیاس آرائیاں زور پکڑیں۔
مئی میں بھی تنازع اس وقت ابھرا جب کویتا کا ایک نجی خط، جو انہوں نے کے سی آر کو لکھا تھا، لیک ہو گیا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ "کے سی آر جی ایک بھگوان ہیں، لیکن ان کے آس پاس کچھ شیطان ہیں جو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”
بعد میں کویتا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے کے ٹی آر سے کوئی اختلاف نہیں، انہوں نے الزام لگایا کہ "کچھ مفاد پرست لوگ میرے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور میرا امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
اس غیر متوقع فیصلے نے تلنگانہ کی سیاست میں زبردست ہلچل مچا دی ہے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
بی آر ایس سے معطل ہونے کے بعد ایم ایل سی کویتا اپنے سیاسی مستقبل پر فیصلہ لینے کے قریب ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ کل (بدھ) دوپہر 12 بجے ایک اہم میڈیا کانفرنس سے خطاب کریں گی اور امکان ہے کہ اس دوران وہ اپنے آئندہ اقدامات کا اعلان کریں۔
ذرائع کے مطابق معطلی کے بعد کویتا بی آر ایس پارٹی رکنیت اور ایم ایل سی عہدہ دونوں سے استعفیٰ دینے پر غور کر رہی ہیں۔ امکان ہے کہ کل ہونے والی میڈیا کانفرنس میں وہ اس اہم فیصلے کا باضابطہ اعلان کریں گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کویتا استعفیٰ دیتی ہیں تو یہ تلنگانہ کی سیاست اور بی آر ایس کے اندرونی حالات پر بڑا اثر ڈالے گا۔ پارٹی کے لیے یہ ایک اور چیلنج ہوگا جبکہ کویتا کے آئندہ سیاسی قدم پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔



