الماتی، 12جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وسطی ایشیائی جمہوریہ قزاقستان Kazakhstan نہ صرف دنیا بھر میں یورینیم کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ تیل اور کوئلہ پیدا کرنے والے ممالک میں بھی شمار ہوتا ہے۔سابق سوویت یونین کی اس ریاست میں گزشتہ ہفتے توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے خلاف جو عوامی مظاہرے الماتی سے شروع ہو کر پورے ملک میں پھیل گئے تھے، ان میں ملکی وزارت صحت کے مطابق ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے جبکہ تقریباً آٹھ ہزار افراد کو بدامنی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
پچھلے کئی برسوں کے دوران اس ملک میں ہونے والے ان شدید ترین اور سب سے ہلاکت خیز مظاہروں کے باعث توانائی کے ذرائع کی بین الاقوامی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھی گئی۔قزاقستان کو سوویت یونین کی تقسیم کے بعد آزاد ہوئے تین عشرے ہو گئے ہیں۔
اس دوران گزشتہ دو دہائیوں میں وہاں وسطی ایشیا کی چند دیگر ریاستوں میں نظر آنے والے مظاہروں اور عوامی بے چینی کے برعکس سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی دونوں دیکھنے میں آئے۔ اس عرصے میں قیمتی قدرتی وسائل سے مالا مال اس ریاست کی معیشت میں کئی گنا ترقی ہوئی اور کئی بڑے عالمی اداروں نے وہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی۔
جن میں امریکہ کی شیوران اور فرانس کی ٹوٹل جیسی انرجی کمپنیاں نمایاں تھیں۔کئی برسوں کے اس سیاسی اور اقتصادی استحکام کے برعکس قزاقستان میں حالیہ عوامی مظاہرے ایسا احتجاج تھے، جس کی وجہ ملک میں پائی جانے والی بدعنوانی اور اقربا پروری بنی اور حالات کو قابو میں کرنے کے لیے طویل عرصے سے حکمران خود پسند صدر قاسم جومارت توکائیف کو نہ صرف ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑ گئی بلکہ روس اور چند دیگر سابق سوویت ریاستوں نے اپنے ڈھائی ہزار کے قریب امن فوجی بھی قزاقستان بھیج دیئے۔
قزاقستان نہ صرف دنیا کے سب سے زیادہ تیل اور کوئلہ پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر یورینیم برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔ لیکن حالیہ سیاسی اور سماجی بدامنی نے اس ریاست کی ‘سرمایہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور قابل اعتماد منزل کے طور پر ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
وسطی ایشیائی سیاسی اور اقتصادی امور کے ماہر ٹموتھی ایش نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہاکہ ان مظاہروں کے نتیجے میں مستقبل میں اس ملک میں موجودہ ہی حکومت برقرار رہے یا کوئی نئی انتظامیہ اقتدار میں آ جائے، اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی حکومت اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتی کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سونے کا انڈہ دینے والی ایک ایسی مرغی ہے، جس کی طرف سے انڈے دینے کا عمل بند نہیں ہونا چاہیے۔
قزاقستان عالمی سطح پر یورینیم کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک اس لیے ہے کہ پوری دنیا میں یورینیم کی پیداوار میں اس کا حصہ 40 فیصد سے زائد ہے۔ یہ یورینیم دنیا کے بہت سے ممالک میں جوہری ری ایکٹروں اور بجلی گھروں میں استعال ہوتا ہے۔ یوں توانائی کے ذرائع کی عالمی منڈیوں میں قزاقستان کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔



