جودلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ…. دہلی سے واپسی کے بعد کے سی آرکے رویہ میں زبردست تبدیلی مراقبہ کی دنیاسے عوامی دنیا میں واپس ۔پرگتی بھون میں وزراء اور اراکین اسمبلی کےلئے ہمہ وقت دستیاب !
اسے ”دوباک دھماکہ ‘جی ایچ ایم سی ڈبل دھماکہ “ یا کچھ بھی کہیں ٹی آر ایس سربراہ اور وزیر اعلی کے چندرشیکھرراو اب ٹی آر ایس قائدین‘سرکاری عہدیداروں اور ملازمین کےلئے ایک ” بدلے ہوئے آدمی“ ہیں۔ 13 دسمبر کو دہلی کے سفر سے واپسی کے بعد سے کے سی آر کے طرزعمل اور سلوک میں ایک بہت بڑی تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ دہلی کے سفر کے دو ہفتوں کے بعد فارم ہاوز سے باہرنکلنے والے کے سی آر نے 27 دسمبر کو پرگتی بھون سے دوبارہ کام شروع کیا۔ وہ ہر روز ایک سے زائدمحکموںکے ذمہ داروں کے ہمراہ جائزہ اجلاس کا انعقادکررہے ہیں۔
یہ بات ان کے کام کرنے کے انداز کے متغیر ہے جس میں جون 2014 میں وزیر اعلی بننے کے بعد سے ہفتہ‘ پندرہ دن یا کچھ معاملات میں ایک ماہ میں ایک بار اسطرح کی میٹنگوں کا انعقاد کرنا شامل تھا۔ خوشگوار تبدیلی کی بات یہ ہے کہ ٹی آر ایس قائدین اور وزرا کےلئے چیف منسٹرکے سی آر سے راست طورپر ملاقات کرنااب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اور پارٹی ممبران اسمبلی وغیرہ کےلئے کئی اہم سےاسی امورپر تبادلہ خیال کےلئے مذکورہ قائدین پرگتی بھون میں اب ان سے مل سکیں گے۔ کے سی آر کےخلاف مشترکہ نظریہ جب سے 2014 میں وزیر اعلی بنے ہیں ۔ یہ رہا ہے کہ جب تک وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتے تھے‘
کوئی بھی کے سی آر سے نہیں مل سکتا تھا۔ کے سی آر نے وزراءاور پارٹی کے ممبران اسمبلی تک بھی ناقابل رسائی بننے کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی تھی ۔ تاہم اس نئے رجحان سےاسی وعوامی حلقوں میں خوشگوار حیرت پائی جارہی ہے کہ دوسروں کو چھوڑئےے ملازمین یونینوں کے قائدین نے دو دن میں دو بار کے سی آر سے بارےابی کو ممکن بنایا جوکہ ماضی بعیدمیں جوئے شیر لانے سے بھی کم نہیں تھا۔ اسطرح کا ایک اورکارنامہ جو سیاسی اور انتظامی حلقوں میں زیر بحث ہے۔
وہ یہ کہ کے سی آر نے دو دن قبل پرگتی بھون میں ملازمین یونینوں کے قائدین کو ظہرانے کےلئے مدعو کیا اور نئے سال کی ڈائری کی رسم اجراءبھی تشکےل تلنگانہ کے بعد وزےراعلیٰ کے ہاتھوں پہلی مرتبہ جاری ہوئی۔ حالانکہ کے سی آر نے تلنگانہ ریاست کے احتجاج کے دوران یہ کام ہر سال کیا تھا۔ 2014 کے بعد ملازمین یونینوں کے قائدین کیلنڈرس اور ڈائریوں کی اجرائی کےلئے کے سی آر کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے انہیں دیگر وزراءکے ٹی راما راو ، ٹی ہریش راو ، ایٹالہ راجندر اور سوامی گوڑ پر انحصار کرنا پڑا۔
تلنگانہ نان گزٹیڈ آفیسرس ایسوسی ایشن ، تلنگانہ گزیٹیڈ آفیسرس ایسوسی ایشن جیسی اعلی پروفائل ایسوسی ایشنز کے علاوہ کے سی آر نے دوپہر کے کھانے کےلئے غیرمعروف تلنگانہ درجہ چہارم ملازمین ایسوسی ایشنوں کو مدعو کیا اور ان کے ہمراہ کیلنڈرس اور ڈائری کی رسم اجراءانجام دی ۔ٹی آر ایس حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرکے سی آر نئے سال 2021 میں غیر منقسم اے پی کے سابق وزیر اعلی ”پرجا دربار“ جیسے پروگرام کا آغاز کر کے عام لوگوں تک بھی قابل رسائی بن جاتے ہےںتو ان کی سےاسی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ اور ناقابل رسائی ہونے کی انکی شبیہ ختم ہوجائے گی۔
ایسے حالات میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس معاملے پر کم سے کم ان پر تنقیدی حملہ کرنے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ گزشتہ اتوار کے بعد سے کے سی آر نے ایل آر ایس ، دھرانی اور ایوشمان بھارت سے متعلق کئی اجلاس طلب کےے ۔ ماضی بعید میں کے سی آر ایک ”سخت سی ایم ” کے طورپر جانے جاتے تھے جو کبھی بھی اپنے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹتے ، چاہے حزب اختلاف کی جماعتیں یا سول سوسائٹی کی تنظیمیں ان پر حملہ کیوں نہ کریں۔ لیکن اب کے سی آر نے ایل آر ایس کے اصولوں میں نرمی کی ہے ، غیر زرعی جائیدادوں کے پرانے اندراج کے طریقہ کار کو صرف دھرانی کے ذریعہ کرنے کے اپنے فیصلے کوبھی انہوں نے تبدیل کیا۔
کے سی آر مودی حکومت کی آیوشمان بھارت اسکیم کو آروگیہ شری میں ضم کرنے سے 2018 میں انکارکردیا تھا ۔ انہوںنے اس مسئلہ پر اپنا موقف انتہائی واضح کردیا تھا کہ تلنگانہ کی آروگےہ شری اسکےمرکزکے آیوشمان بھارت سے کہیں بہترہے۔ لیکن کے سی آر اب موجودہ حالات میںآروگیہ شری کے ساتھ آیوشمان بھارت میں ضم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ پرگتی بھون میں اب ہر سطح کے ٹی آر ایس قائدین کی بھرمار ہے۔ وٹھل ریڈی (مدھول) ، کونیرو کونپا (سرپور) جیسے اراکین اسمبلی نے اپنے انتخابی حلقوں کے لئے رقوم کے حصول کے لئے آسانی سے کے سی آر تک رسائی حاصل کرلینے کے تصورسے مسرور دکھائی دیتے ہیں۔
دراصل کونپا اپنے پورے خاندان کے ساتھ کے سی آر سے ملنے اور ایک تصویر لینے آئے تھے۔ ٹی آر ایس کے دیگر قائدین بھی کے ٹی آر سے ملنے کے لئے قطار میں کھڑے تھے تاکہ انہیں اپنے افراد خاندان کی شادیوںکی تقاریب کےلئے انہیں مدعو کرسکیں۔ کے سی آر بھی ان سے مل رہے ہیں اور ذاتی طور پر دعوت نامہ کے کارڈز وصول کررہے ہیں۔ پہلے اس طرح کے دعوت نامہ کے کارڈز ان کے ذاتی عملے کے حوالے کردیئے جاتے تھے۔