سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

نظر رکھیں اپنے بچوں پر قبل اس کے کہ وہ پولیس کی نظروں میں آئیں-محمد مصطفی علی سروری

جب ریاء کالج سے گھر لوٹنے میں دیر کردی تو لڑکی کے والدین پریشان ہوگئے۔ کالج تو ختم ہوکر کافی دیر ہوگئی لیکن ان کی بیٹی ریاء گھر واپس نہیں آئی۔

K سرینواس کی عمر 46 سال تھی۔ اور وہ ایک کمپنی میں بطور واچ مین کام کر رہا تھا۔ گذشتہ کچھ عرصے سے سرینواس کی صحت خراب ہو رہی تھی اور کسی نے اس کو بیماریوں کو دور کرنے والی دوا بتلادی کہ اگر اس دوا کا روزآنہ استعمال کیا جائے تو اس کو آرام ہوسکتا ہے۔
بس مریض کو کیا چاہیے بیماریوں سے چھٹکارا اس لیے سرینواس نے بھی لوگوں کی بتلائی ہوئی اس دوا کو استعمال کرنا شروع کردیا۔ 22؍ جون 2023 کو بھی راجندر نگر، حیدرآباد کے علاقے کا رہنے والا سرینواس واچ مین کی ڈیوٹی ختم کر کے گھر واپس ہوا تو گھر والوں نے محسوس کیا کہ سرینواس تو نشہ کی حالت میں ہے۔ خیر سے سرینواس گھر آکر سیدھے سونے کے لیے چلا گیا۔ اگلے روز جمعہ کے دن جب سرینواس کے گھر والے بیدار ہوئے تو انہوں نے نوٹ کیا کہ سرینواس اپنے بستر پر موجود نہیں ہے۔
سرینواس کی بیوی نے فوری اپنی لڑکی کو اطلاع دی کہ اس کا باپ رات نشہ کی حالت میں گھر لوٹا تھا لیکن جمعہ کی صبح وہ اپنے بستر سے غائب ہے۔ سرینواس کی بیٹی اسپندنا نے اپنے باپ کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ پھر کسی نے اطلاع دی کہ اس کا باپ تو بدویل علاقے کی چکالی بستی میں دیکھا گیا ہے۔ اسپندنا جب وہاں پہنچی تو تب تک اس کے باپ کو عثمانیہ دواخانہ لے جایا جارہا تھا لیکن دواخانہ لے جانے پر ڈاکٹرس نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
سرینواس کی بیٹی کو شک ہوچکا تھا کہ اس کا باپ اپنی بیماری کے علاج کے لیے جو دوا استعمال کر رہا تھا وہ دوا نہیں تھی بلکہ سیندھی تھی اور اس کا باپ اپنی بیماریوں سے راحت پانے کے لیے سیندھی پینا شروع کردیا۔ لیکن جمعہ 23؍ جون 2023 کو سرینواس کہاں گیا اور پھر اچانک اس کے ساتھ کیا پیش آیا کہ دواخانہ لے جانے کی ضرورت پڑی۔ جہاں پر اس کو مردہ قرار دے دیا گیا؟
اسپندنا نے بدویل کے اس علاقے کے سبھی سی سی ٹی وی کے کیمروں کی فوٹیج دیکھنے کی کوشش کی تو اس کی حیرت کی انتہاء نہیں رہی۔ ایک کیمرے کے ویڈیو فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا تھا کہ سرینواس کو ایک خاتون مار پیٹ کا نشانہ بنا رہی ہے۔
اسی مارپیٹ کے بعد جب سرینواس کی طبیعت خراب ہوگئی تو اس کو لوگوں نے ایمبولنس کے ذریعہ شہر حیدرآباد کے سرکاری دواخانہ عثمانیہ کو منتقل کیا۔ جہاں پر ڈاکٹرس نے اس کو مردہ قرار دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ثبوت کے ساتھ اسپندنا نے پولیس میں شکایت درج کروائی کہ اس کے والد کی موت ایک خاتون کی مارپیٹ کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔ پولیس نے سرینواس کے قتل کے الزام میں جئے اماں نام کی ایک خاتون کو گرفتار کرلیا۔
قارئین کرام بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اصل بات تو اب سامنے آتی ہے۔جیسا کہ اخبار نیو انڈین ایکسپریس نے 24؍ جون 2023 کو اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سرینواس نے نشہ کرنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ خاتون (حملہ آور) کے ساتھ ناشائستہ حرکت کی ہو کیونکہ جئے اماں نے پولیس کو اپنے بیان میں بتلایا کہ اس نے نشہ میں دھت سرینواس کو حفاظت خود اختیاری کے تحت مارا ہے کیونکہ وہ خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا حرکت کر رہا تھا۔ جس سے ناراض خاتون نے سرینواس کو لاتوں اور گھونسوں سے مارنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔ پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
قارئین نشہ وہ چیز ہے کہ اس کو استعمال کرنے والا کچھ بھی کرسکتا ہے۔ یہ تو ایک واقعہ تھا جہاں سیندھی پی کر نشہ کرنے والے ایک سرینواس کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
کیا نشہ کی حالت سماج کے کسی ایک طبقے یا مخصوص افراد تک محدود ہے؟ جی نہیں۔ نشے کی عادت بڑی تیزی کے ساتھ سماج کے سبھی طبقات خاص کر نوجوانوں میں سرائیت کرتی جارہی ہے۔ اور نشے سے مراد صرف شراب اور سیندھی نہیں رہا۔
18 سالہ ریا (نام تبدیل) ایک کالج کی طالبہ ہے۔ کالج کو جانے والی اس لڑکی کے والدین گذشتہ کچھ عرصے سے بہت پریشان ہیں۔ اور ان کی پریشانی کی وجہ ان کی لڑکی کا برتائو میں اچانک پیدا ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔
ریاء کو اب بہت جلد غصہ آنے لگا تھا اور بات بات پر وہ ناراض ہو کر اپنے دوستوں کے ہاں جانے لگی تھی۔ کالج سے وقت کے بجائے واپسی میں تاخیر کرنے لگی۔
ایک دن ایسے ہی جب ریاء کالج سے گھر لوٹنے میں دیر کردی تو لڑکی کے والدین پریشان ہوگئے۔ کالج تو ختم ہوکر کافی دیر ہوگئی لیکن ان کی بیٹی ریاء گھر واپس نہیں آئی۔ پریشان والدین نے کالج کو فون کیا۔ ریاء کے کلاس کی دوسری لڑکیوں سے پتہ کیا اور ڈھونڈنے کے بعد پتہ چلا کہ ریاء اپنی سہیلی کے گھر پر ہے۔
پریشان حال ماں باپ پوچھتے پوچھتے ریا کی سہیلی کے گھر پہنچ گئے تاکہ اپنی لڑکی کو گھر واپس لاسکیں۔ لیکن ریا کے والدین کی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب ریا اپنی سہیلی کے گھر پر اپنے والدین کو دیکھ کر خوش نہیں بلکہ ناراض ہوگئی اور اپنے والدین کے ساتھ واپس گھر جانے سے منع کردیا۔
اتنا ہی نہیں جب ریا کے والدین نے اس کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے اصرار کیا تو ریا نے بدتمیزی کی انتہا کرتے ہوئے خود اپنے ہی والد کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کردیا۔ بس اس واقعہ نے اس کے والدین کی آنکھیں کھول دینے کا کام کیا۔ انہوں نے جب ماہرین اور پیشہ ور حضرات سے مدد حاصل کی تو تب کہیں جاکر ان لوگوں کو پتہ چلا کہ ان کی بیٹی ریا کے برتائو میں تبدیلی کی وجہ نشہ کرنا ہے جو وہ اپنے کالج کی سہیلیوں کے ساتھ کرنا شروع کرچکی تھی۔ (بحوالہ نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ۔ مطبوعہ 26؍ جون 2023)
نشہ کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے متعلق اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ 14 سال کی عمر میں بھی بچوں میں نشہ کرنے کی عادت کے متعلق اطلاعات ہیں۔ گانجہ اور چرس سے شروع ہونے والی نشے کی عادات آگے چل کر سنگین شکل اختیار کر جاتی ہے۔ ابتداء میں بچوں کو ٹافی اور چاکلیٹ کی شکل میں نشے سے متعارف کروایا جاتا ہے۔
حیدرآباد سٹی پولیس کی Narcotics Enforcement Wing (H-New) کے ہیڈ ڈی سی پی جی چکراورتی کے حوالے سے اخباری رپورٹ میں بتلایا گیا کہ شہر حیدرآباد کے کسی ایک علاقے یا کسی ایک پولیس اسٹیشن کے حدود میں نہیں بلکہ پورے شہر کے سبھی پولیس اسٹیشن کے حدود سے نشہ کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
گذشتہ ایک برس کے دوران حیدرآباد سٹی پولیس کی خصوصی ٹیم نے ایک ہزار سے زائد نشہ آور اشیاء کے خریداروں کو گرفتار کرلیا ہے اور 350 سے زائد نشہ آور اشیاء سپلائی کرنے والوں کو گرفتار کر کے ضابطہ کی کارروائی کی گئی۔
ڈی سی پی چکراورتی کے مطابق نوجوانوں میں ڈرگس کے متعلق بہت ساری غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ نوجوان ڈرگس استعمال کرنے کو (Cool) چیز سمجھتے ہیں اور اس تاثر میں رہتے ہیں کہ ڈرگ استعمال کرنا فیشن اور ترقی یافتہ ہونے کی نشانی ہے اور ڈرگس استعمال کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے۔
پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے والدین اور سرپرستوں کو انتباہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں اور ان کی حرکات پر گہری نظر رکھیں۔ جیسے ہی اپنے بچوں کی معمولات میں غیر معمولی تبدیلی نوٹ کریں اور برتائو میں بدلائو محسوس کریں۔ باضابطہ طور پر ڈاکٹرس اور ماہرین کی مدد لے کر اپنے بچوں کو ڈرگس کی لت کا شکار ہونے سے بچائیں۔
شہر حیدرآباد میں ڈرگس کی لعنت کس قدر زور پکڑ رہی ہے اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس برس جب 26؍ جون 2023 کو عالمی یومِ نشہ بندی کے موقع پر مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے ضبط کردہ نشہ آور اشیاء کو تلف کیا گیا جس کی مقدار سے ہی پتہ چلتا ہے کہ شہر میں کس قدر بڑے پیمانے پر نشہ آور اشیاء کا استعمال ہو رہا ہے۔ تقریباً 2700 کیلو گانجہ 410 کیلو ہیروئن کے بشمول 5866 کیلو نشہ آور اشیاء کو پچھلے ایک برس کے دوران حکومت کی مختلف ایجنسیوں کی جانب سے ضبط کیا گیا تھا، جن کی مالیت کروڑہا روپئے تھی۔
قارئین نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی نشہ کی لت سے اب کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں رہا ہے۔ حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر سی وی آنند کے حوالے سے اخبار دکن کرانیکل نے 26؍ جون کو ایک رپورٹ دی ہے کہ شہر میں نشہ آور ڈرگس استعمال کرنے والوں میں 55 فیصدی تعداد خواتین اور لڑکیوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح سے یہ سماج کے سبھی طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈرگس کے استعمال کی بڑھتی ہوئی شرح کا نوٹ لیں۔
قارئین یہ بات بھی اب تحقیق سے ثابت ہوگئی ہے کہ جرائم اور نشے کی عادات کا آپس میں تعلق ہے۔ ایسے میں یہ سبھی والدین، سرپرست اولیائے طلبہ، اساتذہ اور فکرمند شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجون نسل، خاص کر طلبہ برادری پر توجہ مرکوز کریں اور قبل اس کے کہ یہ لوگ نشے کی بری لت کا شکار ہوں، شعور بیداری کے لیے کام کریں۔ مسلم سماج میں بھی ائمہ حضرات اور خطیب حضرات کو بھی چاہیے کہ کہ وہ اس موضوع پر عوامی شعور کو بیدار کرنے کے لیے کام کریں۔ کیونکہ واضح اعداد و شمار تو نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ مسلم کمیونٹی میں بھی نشہ کی عادات بڑھتی جارہی ہیں۔ جس کے سدباب کے لیے صرف حکومتی اداروں کو ہی نہیں بحیثیت ذمہ دار شہری اور مسلمان ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے۔
برائے مہربانی اپنے بچوں کی حرکات و سکنات پر خود نظر رکھیں۔ قبل اس کے کہ وہ پولیس کی نظر میں آجائیں۔ اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ ہم سب کو اس حوالے سے فکر کرنے اور اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ۔ یارب العالمین)
mustafa-ali-sarwari
کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اسوسی ایٹ پروفیسر ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button