بین ریاستی خبریں

پونہ میں ڈاکٹر جی۔ ایم ۔پٹیل کی تصنیف ’’ کہکشاں ‘‘ کا شاندار رسمِ اجرا ء

محمد جاوید مولا۔پونہ

شہر پونہ مشہور تعلیمی ادارہ اعظم کیمپس یونیو رسٹی کے ہائی ٹیک ہا ل میں مورخہ ۲۶ جون بروزاتوار صبح ۱۱ بجے عادل پبلیکشن کے زیرِ اہتمام مشہور و معروف افسانہ نگار، کالم نویس، مصنف و ڈرامہ نگار ڈاکٹر جی ایم پٹیل کے تصنیف ’’ کہکشاں ‘‘ کا شاندرا رسم ِ اجرا ء مشہور و معروف نقاد ،محقق اور کالم نویس جناب شمیم طارق صاحب ور روز نامہ انقلاب کے مدیرِ اعلیٰ جناب شاہد لطیف صاحب کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔ اس موقعہ پر شہر پونہ کی معزز علمی ادبی،تعلیمی ہستیاں رشید چنیوار ، ڈاکٹر انیس ا لدین شیخ ، اطہر قریشی،،عظمیٰ ناہید ،کوثر جہاں، تنویر احمد ،اقبال احمد پٹیل، بزمِ امدادیہ کے صدر اے۔آ ر۔ڈی خطیب صاحب، وغیرہ کثیر تعداد میں تشریف فرما تھے۔

جناب رفیق قاضی صاحب بطور ناظم اپنا ایک مقام حاصل کرلیا ۔پروگرام کے اغراض و مقاصد کواپنے سلجھے ہوئے اور موثر انداز میں پیش کیا ۔محترمہ پروفیسر عظمیٰ صبحانی ریاستِ کرناٹک کے معاروف ڈرامہ نگا، افسانہ نگار، نقاد، مضمون نگار رو شاعر محترم سید کفایت ا للہ چراغ ہبلوی کی تحریر کردہ کہکشاں کے تبصرہ کو جسے بہترین انداز میں لکھا اور ان ساری تفصیلات کو محترمہ پروفیسرعظمیٰ جی صبحانی نے اپنے بہتری انداز میں پیش کیا کہا ’’کہکشاں میں شایع شدہ افسانوں میں گھریلوپریشانیاں ،اخلاقی اقدارکی پاسداری ،پاکیزہ محبت کی روداد،بچوں کے تربیت پر مشتمل یہ سارے افسانے ڈاکٹر جی ایم پٹیل کی کی ذہنی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں۔معروف ادبی اشخاص اور خصوصی طور سے مسلم نوبل انعام یافتہ خواتین کے علاوہ آئی اے ایس افسران کا تذکرہ اہم اس لئے ہے کہ موجودہ طالبات و خواتین کی ہمت افزائی اور حوصلہ افزائی کا باعث بن جائے

رسم رونمائی پر اپنے زرّین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدرِ جلسہ جناب شمیم طارق صاحب کہا ’’ ڈاکٹر پٹیل صاحب ایم بی بی ایس کے بعد طبی ڈاکٹر ہیں مگر ادب سے انکا رشتہ قابل رشک ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب کہکشاں جو اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی سے کچھ وقت نکال کر مختلف موضوعات مضامین لکھے اور اپنے احساسات اور تجربات کو عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ کہکشاںڈا کٹر جی ایم پٹیل کی اردو محبت کا ثبوت ہے ۔جس طرح کہکشاں میں مختلف رنگوں کی آمزش کا خوشنما منظر ہے۔اسی طرح مصنف نے کہکشاں میںکئی موضوعات کا ذکر کیاہے۔تحریک آزادی کے مجاہدین، نوبل انعام یافتہ اشخاص ۔آئی اے ایس، آئی پی ایس میں خصوصی طور سے خوتین کو ترجیح دی ہے جو طالبات اور خواتین کے لئے مشعل ِ راہ ہے۔اس لئے یہ قوم کے تئیں انکے جذبات ،تڑپ اور بے چینی کا مجموعہ کہکشان انقلاب کا باعث بنے گا۔

اجرائی عمل کے مہمان خصوصی ذی وقا ر مدیر اعلیٰ روز نامہ انقلاب نے سامعین ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ مصنف کی تحریر اور گفتگو سے محسوس ہوتا ہے وہ قوم کے تئیںبے چین دل رکھتے ہیںجو دوسروں کے لئے تڑپتا ہے۔پٹیل صاحب سے تعلقِ خاطرہے اور کئی برسوں سے ہے اور میری ان سے گفتگو بھی رہتی ہے۔انکی زندگی بڑی کشادگی والی رہی ہے اس کے باوجود ان میں اضطراب ولی کیفیت ہے جو انہیں منہمک رکھتی ہے۔ انکی تخلیقات کو پڑھنے کا موقعہ ملتارہتا ہے۔اس سے ایک ایسی شخصیت ابھر کر آئی جو اردو سے پاک محبت کرتا ہے اور اسی محبت نے مجھے اپنی مصروفیت کے باوجود رسم اجرا پر آنے پر مجبور کیا۔ یہ اپنے ادبی لگاؤ اور اپنی اردو سے محبت کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں۔بطورطبیب پیشہ کی مصروفیت کے باوجود اپنے ارود ادب کی ترقی کے حصہ دار ہیں ،یوں تو پہلے یوں محسوس ہوتا تھا کہ پٹیل صاحب ایک اردو کے پروفیسر اور کسی اردو فکلٹی کے ذمہ دا ر ہیں ۔لیکن ایسا نہیں ہے۔

ڈاکٹر جی ایم پٹیل نے اپنے مختصر لیکن موثر انداز میں کہا ’’ دور حاضر کا جائزہ لیا اور مسلمانوں کی خستہ حالی ، انکی بے بسی و لاچار ی کو بیان کیا۔اعلیٰ تعلیم و بہتر مالی ،معاشی حالات ہی انکی ترقی کا باعث ہو سکتے ہیں اس بات کو واضح کیا۔ مہاراشٹڑ اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کی ایکزیکٹو افسر جناب سید شعیب ہاشمی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔شاعر و صحافی جناب رفیق قاضی صاحب نے اس پروگرام کیاغراض و مقاصد بیان کئے اور اپنے نظامت کے بہترین اور اعلیٰ قابلیت کا ثبوت دیتے ہوئے سامعین کو اپنی طرف متوجہرکھا ۔عادل پببلیکشن کے مالک جناب کامل اظہا ر تشکور پر جلسہ اختتام پزیر ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button