کجریوال کا الزام: دہلی کے 63 لاکھ گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلائے جانے کا خدشہ آزاد ہندوستان میں سب سے بڑی انہدامی ہوگی
نئی دہلی ، 16مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے آج ڈیجیٹل پریس کانفرنس کر کے بی جے پی کی حکومت والی میونسپل کارپوریشن پر بڑا الزام لگایا ہے۔ کجریوال کا کہنا ہے کہ بی جے پی جس طرح دہلی میں لوگوں کے گھر اور دکانوں کو تباہ کر رہی ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔ تاہم اس طریقۂ کار سے63 لاکھ لوگوں کی دکانوں یا گھروں پر بلڈوزر چلایا جاسکتاہ۔ یہ انہدامی کاروائی آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی کاروائی ہوگی۔پریس کانفرنس کے دوران کجریوال نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت والی میونسپل کارپوریشن کا بلڈوزر گرج رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم آنے والے چند مہینوں تک یہ مہم چلائیں گے اور دہلی سے تجاوزات کو ہٹا دیں گے۔کجریوال نے کہا، ہم خود بھی تجاوزات کیخلاف ہیں۔ ہم ایسا نہیں چاہتے ۔ دہلی میں تجاوزات کے بارے میں دو باتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ دہلی کو منصوبہ بند طریقے سے آباد نہیں کیا گیا جیسا کہ پچھلے 75 سالوں میں ہو رہا ہے۔
دہلی کا جس طرح سے رکھ رکھاؤ ہے ، اس سے کہا جا سکتا ہے کہ دہلی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ تجاوزات کاحصہ ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دہلی کا 80 فیصد حصہ ٹوٹ جائے گا؟دوسرا سوال یہ ہے کہ جس طریقے سے تجاوزات ہٹائی جا رہی ہیں، نہ تو کوئی نوٹس دیا جار ہا ہے اور نہ ہی کسی کو اس کاروائی سے بچنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔
کہیں بھی بلڈوزر لے کر گھروں اور دکانوں کو توڑنا شروع کر دیا جاتا ہے ۔ لوگ اپنے کاغذات لے کر منتیں کرتے رہتے ہیں لیکن کسی کی فریاد نہیں سنی جاتی۔ کوئی پیپر نظر نہیں آتا، بس اندھا دُھند بلڈوزر چلایا جا رہا ہے، یہ سراسر غلط ہے۔کجریوال نے الزام لگایا کہ وہ منصوبہ بنا رہے ہیں کہ تمام کچی کالونیوں کو منہدم کر دیا جائے گا۔ دہلی کی کچی کالونیوں میں تقریباً 50 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔
ان کا منصوبہ کچی بستیوں کو توڑنے کا ہے، جہاں تقریباً 10 لاکھ کی آبادی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے تین لاکھ جائیدادوں کی ایسی فہرست بنائی ہے جس میں کسی نے بالکونی بنائی ہے یا نقشے سے ہٹ کر کوئی معمولی تعمیر کی ہے۔ اس رو سے63 لاکھ لوگوں پر بلڈوزر چلایا جائے گا، میرے خیال میں آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی انہدامی کاروائی ہوگی۔



