بین ریاستی خبریںسرورق

کجریوال کی عدالتی حراست میں23 اپریل تک کی توسیع

عدالت اس معاملے کی دوبارہ سماعت 29 اپریل کو کرے گی۔

نئی دہلی ، 15اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے پیر کو دہلی کے مبینہ شراب گھوٹالے میں وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی گرفتاری سے متعلق دائر درخواست پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے 24 اپریل یا اس سے پہلے جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ عدالت اس معاملے کی دوبارہ سماعت 29 اپریل کو کرے گی۔کجریوال کی طرف سے ابھیشیک منو سنگھوی اور ای ڈی کی طرف سے سالیسٹر جنرل نے دلائل پیش کئے۔

سنگھوی نے عدالت سے کہا کہ میں آپ کے سامنے کچھ چونکا دینے والے حقائق پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ نوٹس جاری کریں۔ سنگھوی نے کہا کہ سماعت کی تاریخ اس جمعہ کو رکھی جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ہم آپ کو قریب ترین تاریخ دے سکتے ہیں لیکن آپ کی تجویز کردہ تاریخ نہیں۔ سنگھوی نے کہا کہ یہ گرفتاری صرف کجریوال کو انتخابی مہم سے روکنے کے لیے کی گئی تھی۔

اس کے بعد عدالت نے کہا کہ ہم اس مہینے کے آخری ہفتے میں سماعت کریں گے۔دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ نے پیر کو وزیر اعلی اروند کجریوال کی عدالتی تحویل میں 23 اپریل تک توسیع کر دی۔ راؤس ایونیو کورٹ کی خصوصی جج کاویری باویجا نے یہ حکم دیا۔ عدالت نے مزید ہدایت دی کہ کجریوال کو 23 اپریل کو بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔لوک سبھا انتخابات سے پہلے کیجریوال کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے ان کی عرضی کو مسترد کر دیا اور راحت دینے سے انکار کر دیا۔

کجریوال نے مبینہ شراب گھوٹالہ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں اپنی گرفتاری کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ بار بار سمن جاری کرنے کے باوجود کیجریوال انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور تفتیش میں شامل نہیں ہوئے، جس سے جانچ ایجنسی کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔دہلی کے وزیر اعلی کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے ڈائریکٹوریٹ کے اس دعوے کا بھی حوالہ دیا کہ کجریوال جرائم کی آمدنی کو چھپانے اور استعمال کرنے میںمبینہ طور پر سرگرم عمل تھے۔ دہلی ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ عام اور خاص لوگوں کے لیے الگ الگ تفتیش نہیں ہو سکتی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button