قومی خبریں

کیرالہ ہائی کورٹ: ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ پر مودی کی تصویر کیخلاف درخواست دائر

نئی دہلی، 13 دسمبر:(اردودنیا/ایجنسیاں)کیرالہ ہائی کورٹ نے پیر کو ایک عرضی کی ماہیت کی جانچ کی ،جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کو کوروناویکسی نیشن سرٹیفکیٹ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا آپ کو وزیراعظم سے شرم آتی ہے؟ جسٹس پی وی کنہی کرشنن نے کہا کہ وزیر اعظم کا انتخاب ملک کے لوگوں نے کیا ہے، سرٹیفکیٹ پر ان کی تصویر لگائے جانے میں کیا حرج ہے۔

درخواست گزار کے وکیل پیٹر مائلپ رمپل نے عدالت کو بتایا کہ جب دوسرے ممالک میں ایسا نہیں ہو رہا ، توپھر ہندوستان میں ایسا کیوں جارہاہے۔ جج نے کہا کہ انہیں اپنے وزرائے اعظم پر فخر نہیں ہوگا، لیکن ہمیں اپنے وزیراعظم پر فخر ہے ۔ انہوں نے درخواست گزار سے پوچھا کہ آپ کو وزیراعظم سے شرم کیوں آتی ہے؟

وہ عوامی حمایت سے اقتدار میں آئے ہیں، ہمارے سیاسی خیالات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن وہ اب بھی ہمارے وزیراعظم ہیں۔ایڈووکیٹ پیٹر نے کہا کہ سرٹیفکیٹ ایک پرائیویٹ آبجیکٹ ہے جس میں ذاتی معلومات درج کی جاتی ہیں، اس صورتحال میں کسی کی پرائیویسی میں دخل اندازی کرنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ سرٹیفکیٹ پر وزیر اعظم کی تصویر لگانا فرد کی ذاتیات میں مداخلت ہے۔

اس پر عدالت نے کہاکہ ملک کے 100 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ پر وزیر اعظم کی تصویر پر کوئی اعتراض نہیں ہے، پھر آپ کو اس پر اعتراض کیوں ہے؟۔ایک گھنٹے سے زائد تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران ایک اور وکیل اجیت جوئے، درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پر فخرکرنا ذاتی پسند کا معاملہ ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ سیاسی اختلافات سے متعلق کوئی معاملہ نہیں ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے عوامی رقومات کا استعمال کرتے ہوئے انتخابی پروگراموں اوراس کی تشہیرات کے لیے رہنما اصول وضع کیے ہیں۔ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم جائزہ لیں گے کہ درخواست میں کوئی بنیاد بھی ہے یا نہیں، اگر اس میں کوئی بنیاد نظر نہیں آتی ے ، تو معاملہ رفع دفع کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب مرکزی حکومت نے بھی اس عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ذاتی شہرت اور نام و نمود کے لئے دائر کی گئی ہے۔

واضح ہو کہ درخواست گزار ایک بزرگ شہری ہے ،جس نے الزام لگایا ہے کہ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ پر وزیر اعظم کی تصویر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button