بین ریاستی خبریں

آوارہ کتوں کے حملوں کو جنگلی جانوروں کے حملوں کے برابر سمجھا جائے: کیرالا ہائی کورٹ

بنچ نے کہا کہ کتے کے کاٹے کا درد وہی سمجھ سکتا ہے جو خود اس اذیت سے گزرے

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کیرالا ہائی کورٹ نے ریاست میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کو جنگلی جانوروں کے حملوں کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ عدالت ایک قانون کے طالبعلم کی طرف سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن کی سماعت کر رہی تھی، جسے ایک آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا۔ درخواست گزار نے آوارہ کتوں کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے اینمل برتھ کنٹرول رولز کے نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایک حیوانات کے حقوق کے علمبردار پر کڑی تنقید کی، جو درخواست کی مخالفت کر رہا تھا۔عدالت نے طنزیہ انداز میں کہا، "ہم آپ کو سارے آوارہ کتے دے دیتے ہیں، آپ ہی ان کی دیکھ بھال کریں۔” بنچ نے کہا کہ کتے کے کاٹے کا درد وہی سمجھ سکتا ہے جو خود اس اذیت سے گزرے یا کسی عزیز کو اس حملے میں کھوئے۔

عدالت نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض معاملات میں ربیز کی ویکسین لگوانے کے باوجود بچے موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ یہ ایک ہنگامی اور عملی حل کا متقاضی مسئلہ ہے۔ "آوارہ کتوں کے حملوں کو جنگلی جانوروں کے حملوں کے مترادف سمجھا جانا چاہیے۔ انسان اور جانور ساتھ رہ سکتے ہیں، مگر ہمیں اس کے لیے مؤثر حل تلاش کرنا ہوگا،” عدالت نے کہا۔

جسٹس سی ایس دیاس پر مشتمل سنگل بنچ نے زبانی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی انسان جانور پر حملہ کرے تو وہ جرم ہے، تو جب کوئی جانور انسان پر حملہ کرے تو اس کے نگران کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر کتے انسانوں پر حملہ کرتے ہیں تو متعلقہ گرام پنچایت کے سیکریٹری کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کتوں کو مار دینا (یوتھنیزیا) کوئی حل نہیں۔

کیرالا ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی اس تجویز کو منظور کر لیا کہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے عدالت کی نگرانی میں ایک عبوری کمیٹی قائم کی جائے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک مستقل ادارہ بنانے کے لیے قانون سازی پر بھی غور کرے۔

عدالت نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو حکم دیا کہ وہ پچھلے ایک سال کے دوران آوارہ کتوں کے حملوں کے سلسلے میں درج ہونے والی ایف آئی آرز کی تفصیل پیش کریں۔ اس کے ساتھ ہی چیف سیکریٹری کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کتوں کے حملوں سے ہونے والی اموات اور متاثرین کو دی گئی امداد کی تفصیل کے ساتھ حلف نامہ جمع کروائیں۔یہ معاملہ اب مزید سماعت کے لیے 4 اگست کو مقرر کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button