بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

دلت لڑکی کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ،مقدمہ میں اب تک 44 ملزمان گرفتار،دیگر13ملزمین کی تلاش جاری

اس معاملے میں کل 59 ملزمان کیخلاف 30 ایف آئی آر درج کی گئی

نئی دہلی، 14جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کیرالہ کے پٹھان متھیٹا ضلع میں ایک دلت لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں اب تک 44 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں کل 59 ملزمان کیخلاف 30 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ضلع کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس تحقیقات کی نگرانی کر رہی ہیں، نے بتایا کہ مزید 13 لوگوں کو گرفتار کرنا باقی ہے۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ دو ملزمان اس وقت بیرون ملک ہیں اور ان کیخلاف لک آؤٹ سرکلر جاری کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ اس کے علاوہ ان کیخلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ ہم کسی ملزم کو نہیں چھوڑیں گے اور انہیں قانون کے سامنے پیش کریں گے۔پولیس کی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے متاثرہ لڑکی سے نجی بس سٹینڈ پر ملاقات کی اور اسے مختلف مقامات پر لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق متأثرہ گزشتہ سال انسٹاگرام کے ذریعے 12ویں جماعت میں زیر تعلیم ایک نوجوان کے ری لیشن شپ میں آئی، وہ اسے ربڑ کے باغات میں لے گیا، جہاں تین دیگر ملزمان نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے ساتھ کم از کم پانچ بار اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ متاثرہ لڑکی، جس کی عمر اب 18 سال ہے، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں اس کے ساتھ 62 افراد نے جنسی زیادتی کی ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ کے اساتذہ نے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کو اس کی بدلی ہوئی ذہنی حالت سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد کمیٹی نے کونسلنگ سیشن کے دوران لڑکی سے معلومات اکٹھی کیں اور پولیس کو اطلاع دی۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی پٹھان متھیٹا کے ڈپٹی ایس پی پی ایس کر رہے ہیں۔ یہ ٹیم ضلع پولیس سربراہ وی جی ونود کمار کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button