سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹسفلمی دنیا

سنجے دت 62 سال کے ہوگئے۔کھل نائیک سے کے ایف جی تک اپنی اداکاری سے ناظرین کے دلوں پہ راج کرتے رہے

ممبئی 28 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بالی ووڈ میں سنجے دت کا نام ان چنندہ اداکاروں میں شمار کیا جاتا ہے، جنہوں نے تقریبا ً تین دہائیوں سے اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کے دل میں آج بھی ایک خاص مقام بنا رکھا ہے ممبئی میں 29 جولائی 1959 کو پیدا ہوئے سنجے دت کو اداکاری وراثت میں ملی ہے۔ ان کے والد سنیل دت اور ماں #نرگس مشہور فنکارتھے۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ وہ اکثر اپنے والدین کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کا بھی رجحان بھی فلموں کی طرف ہو گیا اور وہ بھی اداکار بننے کے خواب دیکھنے لگے۔

سنجے دت نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے والد سنیل دت کے بینر تلے بنی فلم ریشما اور شیراسےکیا تھا اور بطور ہیرو اپنے کیریئر کی شروعات 1981 میں ریلیز ہوئی فلم ’روکی‘ سے کی۔

انہیں فلم انڈسٹری میں آئے تقریباً تیس برس کا عرصہ گزرچکا ہے۔ وہ اپنی ہر فلم میں بہترین اداکاری سے نئی بلندیاں چھوتے جا رہے ہیں ، اپنی ہر نئی فلم کو وہ اپنی پہلی فلم سمجھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اپنے کام کے تئیں لاپرواہ نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ کام کے تیئں ان کی لگن آج بھی برقرار ہے۔

سال 1982 میں #سنجے-دت کو فلمساز #سبھاش-گھئی کی فلم ودھاتا میں کام کرنے کا موقع ملا حالانکہ یہ پوری فلم اداکار #دلیپ-کمار، سنجیو کمار اور شمی کپور جیسے نامور فنکاروں پر مرکوز تھی لیکن سنجے دت نے فلم میں اپنے چھوٹے سے کردار سے ناظرین کے دل جیت لئے۔

سال 1982 سے 1986 تک کا وقت سنجے دت کے فلمی کیریئر کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوا۔اس دوران ان کی ’’جانی آئی لو یو، میں آوارہ ہوں ، بے قرار، میرا فیصلہ، زمين آسمان،دو دلوں کی داستان، میرا حق اور جيوا ‘‘ جیسی کئی فلمیں باکس آفس پر ناکام ہو گئیں،

تاہم 1985 میں آئی فلم جان کی بازی باکس آفس پر اوسط کاروبار کرنے میں کامیاب رہی۔سنجے دت کی قسمت کا ستارہ 1986 کی فلم ’’نام ‘‘ سے چمکا۔ يوں تو یہ فلم راجندر کمار نے اپنے بیٹے کمار گورو کو فلم انڈسٹری میں دوبارہ سے مقام دلانے کے لئے بنائی تھی،

لیکن فلم میں سنجے دت کے کردار کوشائقین نے کافی پسند کیا اور فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی سنجے دت ایک بار پھر #فلم انڈسٹری میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت پانے میں کامیاب ہو گئے۔

فلم نام کی کامیابی کے بعد سنجے دت کی شبیہ اینگری ینگ مین اسٹار کی بن گئی اور زیادہ تر فلمساز سنجے دت کی اسی شبیہ کو اپنی فلموں میں دکھانے لگے ۔

ان فلموں میں ’’جیتے ہیں شان سے، خطروں کےکھلاڑی، طاقتور، ہتھیار ، علاقہ، زہریلے، کرودھ اور خطرناک جیسی فلمیں شامل ہیں‘‘۔سال 1999 میں فلم واستو میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے سنجے دت پہلی مرتبہ بہترین اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازے گئے۔ڈیوڈ دھون کی ہدایت والی فلم حسینہ مان جائے گی میں سنجے دت کی اداکاری کے نئے انداز دیکھنے کو ملے۔

اس فلم سے پہلے ان کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ صرف سنجیدہ یا ایکشن کردارہی نبھا سکتے ہیں لیکن اس فلم میں انہوں نے گووندا کے ساتھ جوڑی بناکر اپنی مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کو ہنسنے پر مجبور کردیا۔

سال 2003 میں ریلیز فلم منا بھائی ایم بی بی ایس سنجے دت کے فلمی کیریئر کی سب سے بڑی سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ان کی اور ارشد وارثی کی جوڑی نے زبردست دھوم مچا کر فلمی شائقین کو خوش کر دیا اور وہ بہترین مزاحیہ اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازے گئے۔

سال 2006 میں فلم کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس کا سیکوئل ’لگے رہو منا بھائی ‘ بنایا گیا اسے بھی باکس آفس پر زبردست کامیابی ملی۔نجے دت کے فلمی کیریئر میں ان کی جوڑی اداکارہ مادھوری دکشت کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ انہوں نے کئی فلموں میں گلوکاری سے بھی سامعین کو دیوانہ بنایا ۔

اپنے فلمی کیریئر میں وہ اب تک تقریباً 150 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔حال ہی میں سنجے دت کی زندگی پر مبنی فلم ’سنجو‘ ریلیز ہوئی، جس میں ان کی اصل زندگی کا کردار رنبیر کپور نے ادا کیا ہے۔ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

آج کل سنجے دت اپنی آنے والی فلموں کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جن میں ’صاحب بیوی اور گینگسٹر، ٹور باز، الیون، ملنگ،دی گوڈ مہاراجہ، ہنسمکھ پگھل گئے اور سڑک۔2 وغیرہ شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button