سرورققومی خبریں

لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے باہر خالصتانی گروچرن سنگھ کی جانب سے ہندوستانی ترنگے پر گائے کا پیشاب ڈالا گیا۔

لندن میں ترنگے پرچم کی توہین کا انکشاف،

نئی دہلی، 4اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) انڈیا کیخلاف خالصتانیوں کی ناپاک حرکتیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ 2 اکتوبر کو گاندھی جینتی کے موقع پر بھی خالصتانیوں نے لندن میں ہندوستان کیخلاف آواز اٹھائی تھی اور اس دوران انھوں نے لندن میں انڈین ہائی کمیشن کے باہر جمع ہو کر خالصتانی پرچم لہرائے تھے اور ہندوستان مخالف نعرے بھی بلند کیے تھے۔ اب خبریں سامنے آرہی ہیں کہ اس مظاہرہ کے دوران خالصتانی تنظیم ’دَل خالصہ یو کے‘ سے منسلک گرچرن سنگھ نے ہندوستان کے قومی پرچم کو نذر آتش بھی کیا تھا، اور ترنگے پر گئو موتر کا چھڑک کی اس پرچم کی توہین بھی کی تھی۔گرچرن سنگھ نے برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کو یہ چیلنج بھی پیش کیا کہ وہ برطانیہ کی گائے کا پیشاب پی کر دکھائیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گرچرن سنگھ کو پولیس نے جائے وقوع سے ہٹا دیا تھا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اسے گرفتار کیا گیا یا پھر چھوڑ دیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرہ کے دوران این آئی اے کی موسٹ وانٹیڈ لسٹ میں شامل خالصتانی دہشت گرد پرم جیت سنگھ پمّا بھی موجود تھا۔ اس کا تعلق خالصتان ٹائیگر فورس سے ہے۔

خالصتانیوں کا یہ مظاہرہ اس واقعہ کے بعد ہوا ہے جب خالصتانی دہشت گردوں نے برطانیہ میں برطانوی ہائی کمشنر وکرم درئی سوامی کو گلاسگو کے گرودوارے میں اندر جانے سے روک دیا تھا۔ اس معاملے کی شکایت ہندوستان نے برطانوی حکومت سے کی تھی اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ خالصتان ٹائیگر فورس سے منسلک پرمجیت سنگھ پمّا طویل مدت سے این آئی اے کے رڈار پر ہے اور خالصتانی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے۔اس درمیان خالصتانیوں کے مظاہرہ کو لے کر امریکہ نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ ہم ایسے غیر آفیشیل ریفرینڈم پر کچھ نہیں کہنے جا رہے۔ حالانکہ انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ہم اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کرتے ہیں اور امریکی آئین میں بھی ایسا لکھا ہے۔ کوئی بھی پرامن طریقے سے جمع ہو سکتا ہے اور اپنی بات رکھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button