مسجد کمیٹی کے صدر کے خلاف مقدمہ، مسلمانوں نے پولیس کارروائی کو جانبدار قرار دیا
مسجد کمیٹی کے صدر محمد حنیف کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا
بھوپال :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا کے کھڑکالا گاؤں میں مسجد کمیٹی کے صدر محمد حنیف کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے بہار کے رہنے والے امام اختر رضا کو نماز پڑھانے کے لیے مقرر کیا اور مسجد میں رہائش دی، لیکن اس بارے میں پولیس کو اطلاع نہیں دی۔
پولیس کے مطابق ضلع میں کسی بھی باہر کے شخص کے قیام کی پیشگی اطلاع دینا لازمی ہے۔ خلوہ تھانہ پولیس کو جب اس بات کی خبر ملی تو فوراً مسجد پہنچی اور تفتیش شروع کی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ امام کو کسی کو اطلاع دیے بغیر مسجد میں رکھا گیا تھا۔ اس پر پولیس نے محمد حنیف کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 223 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
ضلع کے ایس پی منوج کمار رائے نے واضح کیا کہ "ضلع میں باہر کے لوگوں کے قیام کے بارے میں پولیس کو اطلاع دینا ضروری ہے، ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔”
یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب حالیہ عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے دوران ہندو انتہا پسند تنظیموں نے ہنگامہ آرائی کی تھی اور جلوس کے روایتی راستے پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے برعکس گنیش چترتھی جیسے ہندو تہواروں کے جلوس مسلمان علاقوں سے بلا روک ٹوک گزرے۔
گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مقدمہ براہ راست انہی کشیدگیوں سے جڑا ہے اور یہ اقدام مسلمانوں کو دباؤ میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلع میں ہندو مسلم آبادی کا تناسب تقریباً 70:30 ہے اور انتظامیہ صرف مسلمانوں پر سختی دکھا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں جانب کے جلوسوں کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، لیکن مقامی مسلمان دعویٰ کرتے ہیں کہ صرف ان کے خلاف سختی کی جا رہی ہے اور امام کے کاغذات اور خاندانی تفصیلات کی تفتیش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔



