’وندے ماترم پر سیاست کیوں؟‘ کھڑگے کا بی جے پی سے سوال، ’مسلم لیگ کے ساتھ حکومت بنانے والوں کو حب الوطنی کا حق نہیں‘
جو لوگ کل تک وندے ماترم نہیں بولتے تھے آج وہی اس پر سیاست کر رہے ہیں۔
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)راجیہ سبھا میں قومی گیت وندے ماترم پر ہونے والی بحث اس وقت سیاسی تنازع میں بدل گئی جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ’’جو لوگ وندے ماترم کی اہمیت نہیں جانتے وہی اسے انتخابی مفاد سے جوڑ رہے ہیں۔‘‘ ان کے بیان کے جواب میں کانگریس کے صدر اور قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے بی جے پی پر سخت حملہ کیا اور قومی گیت کے نام پر سیاست نہ کرنے کی اپیل کی۔
کھڑگے نے اپنی تقریر کے آغاز میں ہی بلند آواز میں وندے ماترم کا نعرہ لگا کر ایوان کی توجہ حاصل کی اور کہا کہ ’’میں 60 سال سے یہ گیت گا رہا ہوں، جبکہ کچھ لوگ اب اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو لوگ کل تک وندے ماترم بولتے بھی نہیں تھے، آج وہی لوگ قوم پرستی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔‘‘
کھڑگے نے بی جے پی پر تاریخی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی والے حب الوطنی کی بات کرتے ہیں، لیکن یہی لوگ مسلم لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنا چکے ہیں۔ اس وقت ان کی حب الوطنی کہاں گئی تھی؟‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگال میں حکومت سازی کے وقت شیاما پرساد مکھرجی نے مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کیا تھا، لہٰذا آج حب الوطنی کے نام پر دوسروں پر انگلی اٹھانا سیاسی دوہرے معیار کی مثال ہے۔
اپنی تقریر میں کھڑگے نے موجودہ معاشی صورتحال پر بھی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، مگر حکومت عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے وندے ماترم جیسی بحث کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک ڈالر 90 روپے تک پہنچ چکا ہے، عوام پریشان ہیں، لیکن حکومت بحث کر رہی ہے کہ وندے ماترم کس نے کہا اور کس نے نہیں کہا۔‘‘
کھڑگے نے وزیر اعظم مودی کے اس الزام پر بھی سوال اٹھایا کہ نہرو نے 1937 میں قومی گیت کے اصل حصے میں تبدیلی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ پہلے یہ جواب دیں کہ مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کیوں کیا گیا تھا؟‘‘
انہوں نے خارجہ پالیسی پر حکومت کی خاموشی پر بھی اعتراض کیا۔ کھڑگے نے کہا کہ ’’آج چین اروناچل پردیش پر دعویٰ کر رہا ہے، ایک ہندوستانی خاتون کو شنگھائی میں 18 گھنٹے روکے رکھا گیا، مگر حکومت نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔‘‘ ان کے مطابق بنگلہ دیش بھی پاکستان کے قریب جا رہا ہے، جو تشویشناک ہے۔
کھڑگے نے کہا کہ قومی گیت پر بحث اپنی جگہ لیکن اسے انتخابات اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں۔ ’’عوام کے مسائل، معیشت اور قومی سلامتی جیسے اہم موضوعات پر بات ہونا چاہیے، نہ کہ جذباتی نعروں پر سیاست‘‘



