قومی خبریں

کھٹر حکومت کو دھچکا: ہائی کورٹ نے ہریانہ کے باشندوں کو نجی ملازمتوں میں 75 فیصد ریزرویشن دینے پر لگائی پابندی

نئی دہلی،03؍ فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہائی کورٹ نے جمعرات کو ہریانہ حکومت کو دھچکادیتے ہوئے پرائیویٹ سیکٹر کی نوکریوں میں ہریانہ کے باشندوں کو 75 فیصد ریزرویشن دینے کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ ہریانہ کے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے فرید آباد انڈسٹری ایسوسی ایشن نے ہائی کورٹ سے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

آج اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے حکومت کے اس حکم پر روک لگا دی ہے اور حکومت کو اس پر جواب دینے کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ ہریانہ اسٹیٹ ایمپلائمنٹ لوکل کنڈیڈیٹس ایکٹ، 2020 اس سال جنوری میں نافذ ہوا تھا۔

یہ ایکٹ ایسی ملازمتوں پر نافذہوتا تھا، جن میں ماہانہ زیادہ سے زیادہ سیلری یا تنخواہ 30,000 روپئے تک ہوتی ہے۔گزشتہ سال کھٹر حکومت نے کہا تھا کہ یہ قانون پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں، سوسائٹیوں، ٹرسٹ، محدود ذمہ داری کی شراکت دار فرموں، پارٹنرشپ فرموں اور کسی بھی شخص پر نافذہوگا جو 10 سے زیادہ لوگوں کو اتنی تنخواہ پر ہریانہ میں مینوفیکچرنگ، کاروبار چلانے یا کسی دوسری خدمات دینے کے لیے ملازمت پر رکھے گا۔

ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ نے کہا تھا کہ اس قانون سے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button