اپنا خیال فرمائیں,گردے تباہ کرنے والی عادات✍️حکیم محمد عدنان حبان نوادر بنگلور
اس مضمون میں ہم روزمرہ زندگی کی چند ایسی بری عادتوں کا ذکر کریں گے جو ہمارے گردوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، تاکہ ہم ان عادتوں کو اچھی عادتوں کے ساتھ بدل سکیں۔
گردے ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، یہ خون میں سرخ خلیے پیدا کرتے ہیں ہمارا بلڈ پریشر کنٹرول رکھتے ہیں خون کی صفائی کرتے ہیں، جسم سے فاضل مادوں اور پانی کی بڑھی ہوئی مقدار کو خارج کرتے ہیں اور ہمارے جسم میں منرلز کی مقدار کو نارمل رکھتے ہیں، اسی لیے گردوں کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔
اس مضمون میں ہم روزمرہ زندگی کی چند ایسی بری عادتوں کا ذکر کریں گے جو ہمارے گردوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، تاکہ ہم ان عادتوں کو اچھی عادتوں کے ساتھ بدل سکیں۔
پیشاب روکنا
اگر آپ اپنے مثانے کو پیشاب سے فوراً فارغ نہیں کرتے اور پیشاب روکے رکھتے ہیں تو یہ عادت گردوں کو بری طرح نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ اس سے پیشاب آپ کے مثانے میں زیادہ عرصہ رکا رہتا ہے اور پیشاب میں موجود بیکٹریا تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے جس سے گرودں کی انفیکشن پیدا ہو سکتی ہے۔
بہت زیادہ ورزش کرنا
اگر آپ حد سے زیادہ جسمانی مشقت کر رہے ہیں تو یہ بھی آپ کے گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ اس سے آپ کے مسلز تباہ ہوسکتے ہیں اور ان تباہ شْدہ مسلز کا فائبر آپ کے خون میں شامل ہوکر بہت سی بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے جس میں گردے فیل ہونے کی بیماری سر فہرست ہے۔
بہت زیادہ پین کلر ادویات کھانا
درد کو ختم کرنے والی ادویات کا زیادہ استعمال بھی گردوں کو بہت جلد متاثر کرتا ہے کیونکہ ایسی ادویات زیادہ کھانے سے گردوں میں خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے اور گردے فیل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اگر آپ کو اکثر سردرد یا جسم کے کسی دوسرے حصے میں درد رہتا ہے اور درد کی گولی کھانا آپ کی مجبوری ہے تو کوشش کریں کے درد کو ختم کرنے کے لئلا قدرتی پین کلر کھانے کھائیں جیسے ہلدی ایک نیچرل پین کلر ہے۔
کم پانی پینا
پانی پینے سے گردے پیشاب خارج کرتے ہیں جس سے جسم میں سے سوڈیم اور فاضل مادے خارج ہوجاتے ہیں اور اگر آپ پانی کا استعمال کم کر رہے ہیں تو یہ فاضل مادے آپ کے گردوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔روزانہ ڈیڑھ سے دو لیٹر پانی پینا گردوں کو صحت مند رکھتا ہے اوران کو فعال طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کم سونا
انسانی جسم اور اس کے اعضا مسلسل کام کرنے سے تھکاؤٹ کا شکار ہوتے ہیں اور اگر آپ اچھی نیند حاصل کر کے کام پر جاتے ہیں تو جسم اچھے طریقے سے پرفارم کرتا ہے مگر اگر آپ نیند پوری لیے بغیر واپس کام پر چلے جاتے ہیں تو جہاں جسم کے باقی اعضا متاثر ہوتے ہیں وہاں آپ کے گروے بھی تھکاؤٹ سے متاثر ہوکر اپنا کام سست کر دیتے ہیں جس سے ان کے ڈیمج ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔صحت مند زندگی کے لئے مناسب وقت پر مناسب نیند لینا اور آرام کرنا انتہائی ضروری ہے۔
بغیر شوگر والے سوڈا ڈرنکس پینا
ایک ریسرچ کے مطابق بغیر چینی والے سوڈا ڈرنکس جیسے ڈائیٹ کوک اور پیپسی وغیرہ گردوں کو شوگر والیسوڈا ڈرنکس سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو روزانہ 500 ملی لیٹر سے زیادہ ڈائٹ سوڈا ڈرنکس استعمال کرتے ہیں اْنہیں گردوں کی بیماری لاحق ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
زیادہ گوشت کھانا
گوشت کی مقدار زیادہ کھانے سے ہمارے جسم میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے اور جسم کا پی ایچ لیول بڑھ جاتا ہے جس سے گردوں کو کام کرنے میں دشواری ہوتی ہے اور نظام انہظام پر بوجھ بڑھ جاتا ہے چنانچہ زیادہ گوشت کھانے کے بجائے ہمیں اپنی روزانہ کی خوراک میں سبزیوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
نمک اور زیادہ چینی کھانا
نمک اور ایسے کھانے جن میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے گردوں پر بوجھ ڈالتے ہیں اور اْن کو زیادہ کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور کام کی یہی زیادتی گردوں کے تباہ ہونے کا باعث بن جاتی ہے۔چینی کی زیادہ مقدار ہمارے جسم کا بلڈ پریشر تیز کرتی ہے اور دوسری بہت سی بیماریوں جیسے موٹاپا، ذیابطیس کا باعث ہونے کیساتھ ساتھ گردوں کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتی ہے۔
نزلہ زکام کھانسی وغیرہ کو نظر انداز کرنا
عام طور پر لاحق ہونے والی بیماریاں نزلہ زکام کھانسی وغیرہ کی صورت میں جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہوتے ہیں جو ان بیماریوں سے لڑتے ہیں، یہ اینٹی باڈیز ہمارے گردوں کے فلٹر میں پڑے رہتے ہیں اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں، اگر آپ ان بیماریوں سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں یا یہ بیماریاں آپ کو زیادہ لمبے عرصے سے لاحق ہیں تو گردوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے لہذا فوراً ڈاکتر سے رابطہ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔
زیادہ لمبے عرصے بیٹھے رہنا
جسمانی اعضا کے حرکت کرنے سے ہمارا بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے اور جسم میں گلوکوز کی مقدار بھی نارمل رہتی ہے اور زیادہ لمبے عرصے تک بیٹھے رہنے سے جہاں یہ دونوں چیزیں متاثر ہوتی ہیں وہاں گردوں کے متاثر ہونے کا خدشہ 30 فیصد بڑھ جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کے ہفتے میں کم از کم 2 سے 3 دفعہ ورزش کی جائے اور روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ پیدل چلا جائے۔



