سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

معمولات کا جائزہ لیں,گردے کی بیماری دل کیلئے بھی نقصاندہ

دل کی بیماری اور گردے کی بیماری میں کیا تعلق ہے؟

گردے کی بیماری دل کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ مکمل تحقیق و تجاویز

برطانیہ میں کئے گئے ایک حالیہ سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ تین چوتھائی برطانوی شہری اس بات سے لاعلم ہیں کہ گردے کی بیماری دل کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق برطانیہ میں 18 لاکھ افراد گردے کی دیرینہ بیماری میں مبتلا ہیں۔ گردے کا صحیح طریقے سے کام نہ کرنا دل پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے، جس سے دل کی بیماری سے انتقال کا خطرہ بیس گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

گردے اور دل کا آپس میں گہرا تعلق

جب گردے خون کو صحیح طریقے سے صاف نہیں کرتے تو دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ فلاحی ادارہ "کڈنی کیئر یو کے” کے مطابق، لوگ عام طور پر گردوں کے کردار سے اس وقت واقف ہوتے ہیں جب وہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر وقت پر تشخیص ہو جائے تو نقصان کو روکا جا سکتا ہے۔ گردوں کی حفاظت کے لیے تمباکو نوشی چھوڑنا، نمک کم کرنا، اور وزن کم کرنا مفید اقدامات ہیں۔

دل اور گردے کی شراکت داری

دل آکسیجن سے بھرپور خون جسم میں پمپ کرتا ہے اور گردے اس خون کو فاسد مادوں سے صاف کرتے ہیں۔ اگر کوئی ایک عضو متاثر ہو، تو دوسرا بھی متاثر ہوتا ہے۔ دل اور گردے مل کر جسم میں صحت کا توازن قائم رکھتے ہیں۔

دل اور گردے کی بیماری کا باہمی تعلق

اگر گردے خراب ہوں تو دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اگر دل کمزور ہو تو گردوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول دونوں بیماریوں کے مشترکہ اسباب ہیں۔

دل اور گردوں کو صحت مند کیسے رکھیں؟

  • روزانہ جسمانی سرگرمی کریں

  • وزن قابو میں رکھیں

  • مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں

  • بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کنٹرول میں رکھیں

  • سگریٹ نوشی ترک کریں

  • ذہنی دباؤ سے بچیں

گردوں کے مریض دل کی حفاظت کیسے کریں؟

گردے کی بیماری میں مبتلا افراد کو دل کی بیماری کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ معالج سے مشورہ لے کر ایک ایسی طرز زندگی اپنائی جا سکتی ہے جو دل کو محفوظ رکھنے میں مدد دے۔

متوازن غذا کا کردار

  • روزانہ کم از کم پانچ پورشن پھل اور سبزیاں کھائیں

  • سالم اناج اور فائبر والی غذا استعمال کریں

  • کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات کو ترجیح دیں

  • مچھلی، دالیں، انڈے، گوشت مناسب مقدار میں شامل کریں

  • روزانہ 6–8 گلاس پانی پئیں

  • نمک اور چکنائی کی مقدار محدود رکھیں

متعلقہ خبریں

Back to top button